اتوار, نومبر 8, 2015

لکن میٹی


اوس دن ایسراں ہویا کہ سورج سرگی ویلے اُگ پیا۔ نمازیاں دی تہجد تے فجر قضا ہو گئی۔اوہ اک دوجے نوں پچھدے پھرن پئی اسی ہن نماز پڑھ سکنے آں کہ نہیں۔پر۔۔ایس گل دا جواب دین والا کوئی نہیں سی۔
کنک ونّے رنگ دی مٹیار نے مونہہ تے پانی دا چھٹا ماریا تے مدھانی ددھ وچ پا دتی۔ ددھ رڑکدی او سوچن لگ پئی کہ اوہ اج کویلے کیوں اٹھی اے۔ سورج اگن توں پہلاں تے اوہ آنڈھ گوانڈھ نوں لسی دے کے چاٹی وی دھو چھڈ دی سی۔ ۔۔۔پر اج کیہہ ہویا اے۔
 
باہروں آ کے طالبے نے باسی روٹی اچار نال کھادی تے لسی دے چھنّے نوں مونہہ لا کے ڈیکو ڈیک پی گیا۔
 
’’ اج توں چھا ویلا لے کے پیلی وچ نہیں آئی ؟ ‘‘اوہنے چاٹی دھوندی سوانی نوں پچھیا۔ پر اوہ کیہہ دسدی۔ اوہ تے آپ دلیلیں پئی سی۔
 
پنڈ دے بزار اچ دکاناں کھل گیئاں سن پر گاہک نظر نہیں سن آ رہے۔ سرگھی ویلے اگن والا سورج ات دی گرمی سٹ رہیا سی۔ گھراں وچ تے باہر سارے لوک ایس دوزخ نال گھبرائے پئے سن۔
 
’’ یار اج کیہہ ہویا اے۔۔ایڈی گرمی۔۔۔؟ ‘‘ دفترنوں جان والے باوٗ نے اپنی سایئکل اچ ہوا بھردیاں ہویاں نیڑے کھلوتے منشی نوں پُچھیا۔
 
’’ گرمی۔۔۔؟ خدا دا قہر آکھو جی۔۔۔پر باوٗ اے ہویا کسراں ۔۔۔؟ ‘‘منشی نے اچیچا اہونوں سوال کر دتا۔
 
’’ میری گھڑی خبرے بند ہو گئی اے۔۔انج چاپدا اے مینوں دفتروں کویل ہو گئی اے۔۔۔‘‘باوٗ نے آکھیا۔
’’ اج ساریاں گھڑیاں بند ہو گیاں نے۔۔۔لگدا اے ویلا ای کھلو گیا اے۔۔۔‘‘
’’ ویلا۔۔؟ ویلا تے کدی نہیں کھلوتا۔۔۔‘‘
’’ غضب سائیں دا۔۔۔پوہ دا مہینا تے ایڈی اگ۔۔۔‘‘ پیلی نوں پانی لا کے وٹّ تے آ کے بہن والے حمیدے نے متھے توں پسینہ پونجدیاں آکھیا۔
 
’’ پر چاچا۔۔سورج سرگھی ویلے۔۔۔؟ ‘‘
پتر ایہہ میں نہیں جان دا۔۔اسیں اپنے وڈیاں توں ایہہ گل سنی تے اوہناں اپنے وڈیاں توں، پر ساڈھے پنڈ وچ۔۔۔‘‘
’’ شہر والے آکھدے نے سورج راتیں ڈُبّا ای نہیں۔۔۔‘‘ شہروں اون والے چودھری دے منڈے نے آکھیا۔
’’ لو۔۔ہور سن لو۔۔۔اپنا اپنا ٹھکانا کر لوو۔۔۔پتہ نہیں کیہ ہون والا جے۔۔۔‘‘
پر اوہناں نوں کیہ پتہ سی پئی ہونی بیت چکی سی۔
 
ساری دیہاڑی ایہناں وچاراں وچ لنگھ گئی کہ سورج سرگھی ویلے کیوں اُگ پیا تے اگدیاں سار ای سڑدا بلدا دن کیوں چڑھیا۔ دوپہر بھخدیاں بھجدیاں لنگھی۔ بلداں دیاں جوڑیاں، پشو، ڈنگر تے پنڈ دے وسنیک گرمی نال موکھل گھتے پر کسے نوں پتہ نہ لگا کہ انج ہویا کیویں۔۔شہر اچ پڑھن والے سکولئے، دفتراں اچ کم کرن والے باوٗ، وڈے وڈیرے تے سیانے، سارے انج چپ سن جیویں کسے اوہناں کولوں بولن دی طاقت کھو لئی اے۔
 
سورج اگیاں اٹھاراں گھنٹے ہو گئے سن پر اوہ اجے وی ایسراں چمک رہیا سی جیویں دوپہر ہووے۔
سکولیاں دیاں اکھاں اگے اکھر ٹپدے رہے۔ کامیاں دا مڑھکا چوندا رہیا۔ تھکیویں نال اوہناں دے جُسّے پیڑ کرن لگ پئے کہ دیہاڑی ای لمی ہو گئی سی۔ اوہناں دیاں اکھاں نیندر نال بھاریاں سن پر سورج دیاں دراچھیاں رشماں اوہناں دے جُسّیاں توں پار ہو گیاں سن۔
 
نیندر سُولی تے وی آجاندی اے۔۔۔ایہہ صدیاں پرانی بات اج کُوڑ ہو گئی سی۔ ترنجناں وچ کھیہہ اڈ رہی سی۔ کھوہاں تے دیو پھر گئے سن۔ کیکلی پاون والیاں کڑیاں پچھلے اندراں وچ لُکیاں سورج ڈبن دا انتظار کر دیاں رہیاں۔مجھاں نے دھاراں لاہن توں انکار کر دتا۔ کانواں، چڑیاں تے طوطیاں نے چیخ چیخ کے درختاں دے ٹاہن ہلا دتے۔ پانی کتھے بندہ ماریاں نہیں سی پیا لبھدا۔ زمین انج سُک گئی کہ اوہدے اتے چڑیپر پئے گئے۔
اودھر یونیورسٹی دے وڈے ہال وچ منڈیاں نے اک بڈھے پروفیسر نوں گھیر لیا۔۔’’ جناب تسیں ہی کجھ دسّو۔۔‘‘
’’ گل ایہہ وے پئی۔۔۔ایہہ زمین، سورج ، کاینات دے ذرّے نیں۔ صرف ذرے۔۔‘‘
’’ پر جناب۔۔ایہہ گل تے کوپر نیکس نے آکھی سی۔۔۔‘‘
’’ ہاں۔۔۔ہر کوپر نیکس ایہو ای گل آکھے گا، آکھدا رہوے گا۔۔تے لوکی اوہنوں مردود۔۔۔‘‘
منڈیاں نے پروفیسر نوں مونڈھیاں تے چُک لیا۔۔۔تے ۔۔فائر بریگیڈ دیاں گڈیاں ہنیرے دی اوس بُکّل ول ٹر پیاں جتھوں ایہہ سورج۔۔نخشب دے چن ورگا جعلی سورج اُگیا سی۔


پیر, نومبر 2, 2015

وارفتگئ دل



آج وہ خاص طور سے اپنے پسندیدہ لباس میں ملبوس تھی۔ پہننے سے پہلے اسنے اسے بڑی محنت سے استری کیا تھا اور معمول کے بر عکس کسی پبلک ٹرانسپورٹ کی بجائے ٹیکسی میں سوار ہو کر ڈیوٹی پر پہنچی تھی۔ اسپتال کے داخلی دروازے سے لیکر
ICUمیں اپنے ڈیسک تک، ہر نرس، ہر ڈاکٹر، سٹاف اور مریضوں کے لواحقین اسکا لباس دیکھ کر دل ہی دل میں اور نظروں ہی نظروں میں سے داد دیتے رہے۔ ڈیوٹی کاونٹر پر ساتھی نرسوں اور دیگر عملے نے اسکے لباس کی بھر پور تعریف کی۔ اسنے شولڈر بیگ کندھے سے اتارا اور اپنی کرسی پر لٹکا دیا۔ ڈریسنگ روم میں جا کر اسنے لباس تبدیل کیا۔ ہیڈ نرس کے لئے مخصوص اوورآل اور ٹوپی پہنی اور وارڈ کا چکر لگانے نکل گئی۔ یہ اسکا روز کا معمول تھا۔ اوور آل کے نیچے بھی اسکی خوبصورت شرٹ نظر آ رہی تھی۔ اسکی غیر موجودگی میں اسکا سٹاف اب تک اسکے لباس اور انتخاب کی داد دے رہا تھا اور کلچر کے مطابق ٹیوے لگا رہا تھا کہ آج میڈم نبیلہ کا کوئی خاص دن ہے یا کوئی تقریب۔ 
اسکی ڈیوٹی میں آئی سی یو کے علاوہ ملحقہ گائینی وارڈ بھی تھی۔ اس نے دونوں وارڈز کا چکر لگایا۔مریضوں کا حال دریافت کیا، ادوایات کے چارٹ دیکھے، نرسوں کو ہدایات دیں اور پھر اپنے ڈیسک پر آ کر پیپر ورک میں مصروف ہو گئی۔ نرسنگ کورس کی تکمیل کے بعد محنت اور جانفشانی سے کام کرتے ہوئے تین سال کی قلیل مدت ہی میں اسکو ہیڈ نرس کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔ دلکش نقوش،خوش شکل، ہنس مکھ اور ہمدرد ہونے کی بنا پر وہ اپنے ساتھیوں میں مقبول تھی۔ ان خوبیوں اور عہدے کی وجہ سے کچھ حاسدین بھی تھے لیکن ابھی تک انہوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔
 
نبیلہ کا باپ محکمہ سوشل سیکیورٹی میں ٓفس سپر انٹندنٹ تھا۔ ماں گھریلو عورت اور ایک بھائی میٹرک کا طالب علم تھا۔ یوں یہ ایک اوسط درجے کا گھرانہ تھا۔ بطور نرس اسکی تقرری کے ساتھ ہی گھر میں رشتے کی باتیں بھی شروع ہو گئیں۔ ماں باپ کو بیٹیاں بیاہنے کی نہ صرف فکر ہوتی ہے ، جلدی بھی ہوتی ہے۔ جس بچی کے لاڈ پیار دیکھتے وہ تھکتے نہیں، جوان ہوتے ہی اس سے جان چھڑانے کے جتن کرتے ہیں چاہے بعد میں نتائیج کچھ بھی ہوں۔ لیکن یہ ہمارے معاشرے کا دستور ہے اور نبیلہ کو بھی اس سے فرار نہیں تھا اسلئے اس نے بھی ماں باپ کی اس رشتہ مہم کو اپنا مقدر سمجھ لیا لیکن وہ اسکی خاطر ملازمت کی قربانی نہیں دے سکتی، یہ اسنے بہت وضاحت سے اعلان کر رکھا تھا۔ اتفاق سے ابھی تک جہاں سے بھی رشتے کی بات آئی، نرس کے کام کو کسی نے بھی زیادہ ووٹ نہیں دئے۔ یہ بھی بڑے ستم کی بات ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کی خدمت کرنے والی نرسوں اور سکولوں میں بچوں کو تعلیم اور تہذیب کا درس دینے والی استانیوں کو اس معاشرے کے بیشتر لوگوں نے غیر ضروری، غیر اخلاقی سوچ کی عینک سے ہی دیکھا ہے۔ اس سب کے باوجود نبیلہ کو ملازمت پیاری تھی۔ یہ نہیں کہ وہ بطور کلیثے انسانیت کی خدمت کا بچپن سے شوق رکھتی تھی بلکہ ملازمت کے تین سالوں کے دوران اس نے جسطرح سے لوگوں کے دکھوں اور تکلیفوں کو اتنے
قریب سے دیکھا تھا ، اسنے اسے انکی خدمت کا عادی بنا دیا تھا۔ مریضوں کا حال پوچھنے، انکو تسلی دینے اور انکی ادویات کا خیال رکھنے میں اسے ایک عجیب لذت اور فخر محسوس ہوتا۔ جن مریضوں کو اپنے عارضے کی بنا پر اسپتال میں زیادہ عرصہ رکنا پڑتا وہ تو اسکی غیرحاضری تک کو محسوس کرتے۔
 
دو بجے وہ ڈیوٹی پر آئی تھی اور آٹھ بجے اسنے فارغ ہونا تھا۔ اور ابھی پچیس منٹ باقی تھے۔ وہ اپنا کام تقریبا ختم کر چکی تھی اور بس تھوڑا سا ڈیسک ورک رہ گیا تھا، محض چند ایک اندراج کرنا باقی تھے۔ ۔ڈیسک پر سر نیچا کئے وہ ڈیوٹی کے بعد آزاد سے پہلی ملاقات کا تصور کر رہی تھی۔ آزاد اسکی ایک دیرینہ دوست کا قریبی عزیز تھا۔ ایک آدھ بار پہلے بھی ملاقات ہو چکی تھی لیکن اسے ملاقات نہیں کہا جا سکتا۔ تین چار لوگ اکٹھے  کھانا کھا لیں یا چائے پی لیں تو یہ ملاقات تو نہیں ہوتی۔ آزاد ایک کیمیکل انجنئیر تھا اور جی ٹی روڈ پر مریدکے میں کسی فیکٹری میں ملازم تھا۔ اسکی مالی حالت اچھی تھی البتہ تین بہنوں کی شادیاں کرتے کرتے وہ خود تھوڑا بڑی عمر کا لگنے لگ گیا تھاَ۔ اسکی اطلاع کے مطابق آزاد اسے پسند کرتا تھا اور شادی کے بعد بیوی کی نوکری سے اسے کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا۔ دیرینہ دوست کے بے حد اصرار پر آج وہ اس سے ملنے ایم ایم عالم روڈ جا رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ بات کیسے شروع ہو گی اور وہ کیا بات کرے گی۔ بیٹھی تو وہ اپنے ڈیسک پر ہی تھی لیکن ذہنی طور پر کسی کھابے خانے میں کھانے کے دوران ہونے والی مستقبل کی باتیں سوچ رہی تھی۔ اسکی نظر میں آزاد  بس ایک معقول انسان تھا اور آج کی ملاقات اسکی دیرینہ دوست کے اصرار پر ہو رہی تھی۔
وارڈ نرس فرزانہ، دواوں، ٹیکوں، بلڈ پریشر اور شوگر جانچنے کے آلات ٹرالی پر لادے اپنی چوتھی اور آخری وارڈ میں ایک ایک مریض کے بیڈ پر جا کر کسی کو انجکشن لگا رہی تھی کسی کو دوائی پلا رہی تھی۔ بیڈ نمبر 13 والی آنٹی کسی بہت امیر کبیر گھرانے کی خاتون تھی۔ اسنے پہلے تو اسپتال کا مخصوس لباس پہننے سے انکار کیا پھر  مانی بھی تو اس شرط پر کہ اسپتال کی شرٹ نہیں پہنے گی، یوں اسکا لباس اوراسکی گفتگو  اسکی امارت کے تفاخر کا اشتہار تھے۔ وہ اس بیڈ پر گذشتہ ایک ہفتے سے تھی۔ تھیلیم ٹیسٹ کے بعد ہی ڈاکٹرز  بائی پاس کا کوئی فیصلہ کر سکتے تھے۔ڈاکٹروں کی بہترین خدمت کے باوجود خاتون مطمئن نہیں تھی اور ہر ایک سے یہی گلہ کرتی تھی کہ اتنا پیسہ لگانے کے بعد بھی اگر ڈاکٹر اسکی بیماری پر قابو نہیں پا سکتے تو ایسے نامی گرامی اسپتال کا کیا فائدہ۔ نرس فرزانہ کے ساتھ البتہ اسکا رویہ قدرے بہتر تھا، شائد اسلئے کہ اسکی شکل اس خاتون کی ایک مرحوم بھتیجی سے ملتی تھی اور وہ فرزانہ کو اسکی باتیں بتاتی نہیں تھکتی تھی اور بے چاری  نرس چہرے پر جعلی مسکراہٹ سجائے  سننے ر مجبور ہوتی۔ خاتون تو چاہتی تھی کہ نرس انکی پٹی سے لگی رہے لیکن اسے ابھی دومریض اور دیکھنا تھے۔
بیڈ نمبر 14 کا مریض اس  وارڈ کا سب سے سینئر مریض تھا۔ وہ کوئی ایک ماہ سے یہاں تھا۔ اسکے اعصاب کافی کمزور تھے  لیکن دو ماہ میں ڈاکٹرز کی کوششوں اور مختلف تجربات سے وہ پہلے سے بہت بہتر تھا۔ اس مریض سے فرزانہ کی بہت جان جاتی تھی۔شائد  وہ کبھی میڈیکل کا ناکام طالب علم رہا تھا  یا طب کے کسی شعبے سے وابستہ رہا تھا۔اسے ، دی جانے والی ہر دوا، ہر انجکشن، ہر علاج کے بارے میں  تشویش لاحق رہتی اور وہ ڈکٹرز، نرسز حتی کہ وارڈ بوائے تک سے اپنے علاج کے بارے میں پوچھتا رہتا۔ بلڈ پریشر کتنا ہے، شوگر کتنی ہے، بخار ہے کہ نہیں اور پھر فرزانہ سے اسکا چارٹ بھی مانگ لیتا تاکہ جان سکے کہ نرس غلط تو نہیں بتا رہی۔ فرزانہ  کی کوشش ہوتی کہ وہ جلد از جلد یہاں سے فارغ ہو۔ آج بھی وہ  ٹمریچر نوٹ کر کے مریض کی سنی ان سنی کر کے 15 نمبر بیڈ کی طرف سرک لی۔

۔ پندرہ نمبر بیڈ پر پہنچ کر  بلڈ پریشر چیک کرنے کے لئے  اسنے مریض کو جگانے کے لئے آواز دی لیکن وہ گہری نیند میں تھا۔ فرزانہ نے آہستہ سے اسکا بازو ہلایا لیکن وہ ہلا تک نہیں۔ اسنے فورا اسکی نبض ٹٹولی، نتھنوں کے آگے اپنی انگلیاں رکھیں، اسکے پپوٹوںکو پلٹا کر دیکھا، بے چارہ بوڑھا دنیا کو خیرباد کہہ چکا تھا۔ اس نے سکون سے باقی مریضوں کو دوا وغیرہ دی اور پھر ہیڈ نرس نبیلہ کی میز پر جا کر آہستگی سے بولی
’’میڈم ۔۔بیڈ نمبر
۱۵ کے مریض کا انتقال ہو گیا ہے‘‘۔۔۔
نبیلہ اپنے خیالات اور کچھ دیر بعد ہونے والی ملاقات میں اسقدر گم تھی کہ اس نے شاید یہ بات نہیں سنی۔ فرزانہ نے بات دوہرائی۔ ہیڈ نرس نے جونہی یہ بات سنی اسکے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ حالانکہ اسپتال کے اس
ICU میں تقریبا ایک موت روزانہ کی اوسط تھی اور وہاں کے ڈاکٹر، نرسیں، سٹاف اور خاکروب تک پر اسکا کچھ اثر نہ ہوتاتھا۔ فرزانہ یہ اطلاع دے کر اپنی کرسی پر جا کر وارڈز کے بارے میں کاغذات میں فل ان دی بلینکس کرنے لگ گئی۔ ہیڈ نرس کے دماغ میں اس اطلاع پر گویا بم کا کوئی گولہ پھٹا۔ اسکی ڈیوٹی ختم ہونے میں صرف دس منٹ باقی تھے اور کسی مریض کی اس ٹائم کے اندر موت کا مطلب تھا کہ ضروری کاروئی کرنے میں مزید آدھ گھنٹے کی تاخیر یا پورا ایک گھنٹہ اوربھی لگ سکتا تھا۔ فرض اور اہم ملاقات دونوں اسکے دماغ میں گتھم گتھا ہو گئے۔ ایک لمحے میں کئی باتیں اسکے دماغ میں آئیں۔ وہ اس نرس سے کہے کہ وہ اس موت کو صرف اپنے تک محدود رکھے، گویا اسنے ابھی دیکھا ہی نہیں اور بات نئی ڈیوٹی والے سٹاف پر چلی جائے گی۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ نرس فرزانہ نئی بھرتی تھی اور اس سے اس قسم کی بات کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا۔ کل کلاں وہ اس بات کا فایدہ اٹھا کر اسے بلیک میل کر سکتی تھی یا کسی فضول سی مطلب براری کے لئے رعایت طلب کر سکتی تھی۔ کوئی بھی ہیڈ نرس نہیں چاہے گی کہ اسکی کوئی ماتحت اسکی کمزوری سے واقف ہو۔ اسے یہ بھی خیال آیا کہ وہ فون کر کے آزاد کو صورتِ حال سے آگاہ کردے کہ وہ کسی اور دن مل سکتے ہیں لیکن شاید اسکے مشاہدے میں یہ بھی تھا کہ پہلی ملاقات اگر postponeہو جائے تو پھر ہوتی ہی جاتی ہے اور اسنے کئی ایسے کام دیکھ رکھے تھے جو پہلے سے طے شدہ وقت پر نہیں ہو پائے تو پھر کبھی نہیں ہوئے۔ اسنے اس خیا ل کو رد کر دیا۔ وہ آج ہر صورت آزاد سے ملنا چاہتی تھی کیونکہ وہ بھی بمشکل تمام اپنے آپ کو فیکٹری کے دھندوں سے آزاد کر کے پہنچنے والا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ واقعہ اسکی ڈیوٹی کے دوران ہوا تھا اسلئے اسے ہی اس سے نمٹنا ہو گا۔ اگلی شفٹ کے لوگوں کے آنے میں ابھی کافی وقت تھا اور انہیں آ کر حاضری لگانے، ڈریس اپ ہونے اور چارج لینے میں بہت وقت لگے گا۔ اسے اگلی شفٹ کی ہیڈ نرس سے بات کرنے کا خیال آیا کہ اسکی مدد لے لیکن اسنے تو کبھی کسی سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کی تھی۔ انہی خیالات میں کھوئی وہ سوچ رہی تھی کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ 
ڈیوٹی ختم ہونے میں اب پانچ منٹ باقی تھے کہ اسے مسئلے کا حل نرسز کاونٹر پر جھکا ہوا نظر آیا۔ بے حد ملنسار، اچھے اخلاق کا مالک ڈاکٹر ارسلان نرم اور دھیمے لہجے میں کسی نرس سے اس مریض کا حال پوچھ رہا تھا جسکو آج صبح ہی اسنے مصنوعی تنفس سے بحال کیا تھا۔ یہی اسکا کام تھا۔ ایسے مریض جن میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہوتی اور انکا جسم خود سانس نہ لے پاتا تو ڈاکٹر ارسلان کو بلایا جاتا۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا۔ ونٹی لیٹر کو چلانا، مشین پر لگے مریض کی کیفیات کو پڑھنا، آئی وی لگانا، سیچوریشن دیکھنا اور مریض کو سکشن کروانا اسکا روزمرہ تھا۔تجربہ تو اسکا ابھی صرف سات آٹھ برس کا تھا لیکن وہ ڈیوٹی کے دوران پیچیدہ مسائل میں نرسوں کو بہترین صلاح بھی دیا کرتا تھا۔ بات تو وہ نرس سے کر رہا تھا لیکن اسکی نظریں نبیلہ پر جمی تھیں۔ وہ اسکی فرض شناسی سے لیکر، چال ڈھال، گفتگو، ہر چیز کا معترف تھا اور اسے بے حد پسند کرتا تھا اور اسکے ساتھ مستقل تعلق کے لئے کھل کر نہ سہی ، زیرِ لب اشاروں کنایوں میں اظہار کر چکا تھااور نبیلہ یہ بھی جانتی تھی کہ ارسلان کو اس وارڈ میں کوئی کام ہو یا نہ ہو وہ اسکی ڈیوٹی کے دوران ایک دو بار ادھر کا چکر ضرور لگاتا تھا اور اسکا حال احوال پوچھتا تھا۔
نبیلہ نے ارسلان کو اپنے ڈیسک کی جانب آتے دیکھا تو اسنے سوچا کہ وہ اسکی مشکل آسان کرسکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی خیال آیا کہ وہ بدلے میں اسکے لئے کیا کر سکتی ہے جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے اور ایک مستقل تعلق کا خواہاں ہے۔ بحر حال اس وقت تو اسے اس مشکل سے نکلنا تھا۔ جونہی ارسلان نے نبیلہ کے پاس پہنچ کر علیک سلیک کی تو نبیلہ نے آہستہ ٓواز میں سارا قصہ بیان کیا اور بتایا کہ اسے ایک ایسے ضروری کام کے لئے جانا ہے جسے وہ کسی صورت ٹال نہیں سکتی اور نہ مزید ٹہر سکتی تھی۔ ارسلان نے ساری بات نہایت اطمینان سے سنی اور اسے ہاتھ کے اشارے سے تسلی دی کہ وہ فکر نہ کرے، وہ سب سنمبھال لے گا۔ نبیلہ نے بیڈ نمبر پندرہ کے مریض کے کاغذات اسکے حوالے کئے اور ایک جھٹکے سے اٹھی اور تقریبا بھاگتی ہوئی ڈریسنگ روم میں پہنچی۔ اس نے اوورآل اتار کر دیوار پر ٹانگے کی کوشش کی جو بار بار زمین پر گر رہا تھا اور وہ تیسری مرتبہ اسمیں کامیاب ہوئی۔ اسنے ہیڈ نرس کی کیپ اتاری۔ بیگ میں سے برش نکالا۔ بالوں کو درست کیا۔خوشبو دار ٹشو پیپر سے سارا چہرہ صاف کیا۔ قد آدم شیشے میں اپنی کورل لیس کی کروشئے کی شرٹ کے بل درست کئے، فیروزی رنگ کی
Tights کی خیالی شکنیں درست کیں، auqa shoesپہنے اور سی گرین رنگ کی جیکٹ پہن کرباہر بھاگی۔ لفٹ کے شیشے میں اسنے ہونٹوں پر لپ سٹک جمائی اور گراونڈ فلور کا بٹن دبا دیا۔ نیچے پہنچنے تک کئی اور خیال اسکے دماغ میں آتے رہے۔ اسے خیال آیا کہ وہ اپنے فرض میں کوتاہی کر رہی ہے۔ پھر خیال آیا کہ نہیں یہ صرف ایک بار کی بات ہے پھر کبھی نہیں۔ وقت کافی گزر چکا تھا۔ اسپتال سے باہر نکل کر ٹیکسی فورا مل بھی جائے تو ایم ایم عالم روڈ تک پہنچنے میں چالیس منٹ تو ضرور لگیں گے اور شام کے اس وقت تو اس طرف کی سڑکیں گویا انسانوں اور گاڑیوں کے سمندر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وہ بہت لیٹ ہو جائے گی، اسے آزاد کو کم از کم فون تو کر دینا چاہئے۔ اسپتال کے گراونڈ فلور کے کونٹر سے اسنے فون ملایا لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ مریض کے انتقال کی اطلاع سے لیکر ڈاکٹر ارسلان سےfavour   مانگنےتک تمام مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے سے پھر گزرے اور دماغ میں ہونے والی دھما چوکڑی مزید تکلیف دہ ہو گئی۔ اسنے پرس سے سیل فون نکالا، دو ایک بار فون ڈائل کرنے کے بعد آزاد کا نمبر مل گیا۔ اسنے مختصر سی بات کی اور تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بھاگی۔ چند منٹ بعد وہ اسپتال کے تیسرے فلور پر ڈاکٹر ارسلان کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی کہ واقعی کچھ کام طے شدہ وقت پر نہ ہو ں تو کبھی نہیں ہوتے۔  






بدھ, ستمبر 23, 2015

سوا نیزے تے سورج

دھپ اچ بڑی تیزی اے تے آخراں دی گرمی پے رہی اے۔چن تارے سڑ بل کے بدلاں دے لیف اچ جا چھپے نیں ایہہ کالے بد ل سورج دی تیز روشنی اچ اگ دے لمبو جاپدے نے۔کاراں موٹراں تے مخلوق روز وانگوں ، کسے جادو ہیٹھ پتہ نہیں کدھر جا رہی اے۔بے وسی دی ایس چادر تھلے جے کوئی کسے منزل یا سمت نوں پچھانن دی کوشش کردا وی اے تے فضا اچ پھیلی کاربن ڈایی آکسایڈ اوہدے مساماں اچ آ وڑدی اے تے اوہ پورا منہ کھول کے اپنا ساہ سانواں کرن دی کوشش اچ اوتھے دا اوتھے ای کھلوتا رہ جاندا اے۔
لکڑی دے فرش تے کھٹ کھٹ دی آواز دور دور تیک سنائی دیندی اے۔شیشے دے کیبن دا دروازہ چرچراندا اے،ریوالونگ چییر دی کریک جئی آواز اوندی اے۔کنٹرول سوچ دبایا جاندا اے۔ساری عمارت اک زور دار اواز نال کمب جاندی اے۔روبوٹ اپنیاں اپنیاں میزاں سامنے آ کھلوندے نیں تے میزاں تے رکھیاں وکھو وکھ رنگ دیاں ٹوپیاں چک کے اپنے اپنے سراں تے رکھ لیندے نیں۔ایہہ ٹوپیاں ہی اوہناں دی پچھان نیں۔اوہ میزاں تے رکھے سپرٹ لیمپاں تھلے اگ بالدے نیں تے اوہناں اتے مختلف قسم دے اپریٹس رکھدے نیں۔ گرم ہون والے محلول وچوں اٹھدا دھواں کئی قسم دیاں بوتلاں اچوں لنگدا ہویا گیس اچ تبدیل ہو کے سلنڈراں اچ جمع ہو ریا اے۔ہر روبوٹ دے منہ تے اکو جئی مشینی مسکان اے تے اوہناں دے ہتھ وی مشینی انداز اچ اپنے اپنے کم اچ رجھے نیں۔
۔۔۔۔باہر ٹریفک دا شوہ دریا پیا وگدا اے۔۔۔۔
شیشے دے کیبن اچ ریوالونگ چییر تے بیٹھا بندہ کجھ مطۂن نظر اوندا اے تے اپنیاں ادھ کھلیاں اکھاں اتے کدی اک تے کدی دوجا چشمہ لاندا اے۔کمرے اچ لگی سکرین توں اوہ لیبارٹری وچ ہون والے ہر کم نوں تک رہیا اے۔واری واری اوہ سارے بٹن دباندا اے۔سرکٹ چیک کردا اے۔مختلف نوب مڑوڑدا اے۔اوہدے متھے تے ہن پریشانی اے تے پسینے دے نکے نکے قطرے وی۔سکرین اتے نیلی رنگ دی ٹوپی والے روبوٹ دا کلوزاپ نظر اوندا اے۔
۔۔حیرانی۔۔۔۔پریشانی۔۔۔۔اسل وٹ۔۔۔
شیشے دے کیبن دا دروازہ کھلدا اے۔لکڑی دے فرش تے کھٹ کھٹ دی آواز پھیلدی اے تے ادھ کھلیاں اکھاں والاہن نیلی ٹوپی والے روبوٹ دے کول اپڑ جاندا اے۔اوہدیاں اکھاں پوریاں کھل جاندیاں نے پر روبوٹ دے سارے سرکٹ تے سارے سوچ ،ٹانکے ٹھیک کم کر رہے نیں۔اوہ تسلی نال واپس چلا جاندا اے۔
باہر سڑکاں اتے تار کول گرمی دی شدت نال پگھلن لگ پیا اے۔درختاں دے پتیاں وچوں نترن والا نور ہن اگ وسا رہیا اے۔ساہ لینا اوکھا ہو گیا اے تے کاربن ڈایی اوکساییڈ ہر پاسے پھیل گئی اے۔
مٹی رنگے اوورآل تے رنگ برنگیاں ٹوپیاں والے روبوٹ سلنڈراں اچ آکسیجن گیس جمع کر رہیے نیں۔پشلے کئی سالاں توں ایس لیبارٹری اچ اییہو تجربہ ای ہو رہیا اے۔روبوٹ اوہدی مدد کر رہے نیں پر اوہ نہیں جان دے کہ اوہ اوہدے واسطے ایہہ کم کیوں کر رہے نیں۔اوہ تے محض روبوٹ نیں تے رنگ برنگیاں ٹوپیاں اوہناں دی پچھان اے۔اودھر شیشے دے کیبن اچ صورت حال دا گراف کدی سدھیاں تے کدی لمیاں لکیراں بنا رہیا اے۔کیی قسم دیاں مشیناں تے کل پرزے چیک کرن دے بعد،جدید ترین ٹیکنالوجی دی مدد دے باوجود اوہنوں ہالی تیک سمجھ نہیں آئی کہ نیلی ٹوپی والا روبوٹ ، لیبارٹری اچ تے صحیح کم کردا نظر اوندا اے پر کنترول روم دی سکرین اوہدے وچوں نکلن والیاں منفی لہراں کیوں وکھا رہیی اے۔سارے روبوٹ اوہدے اپنے ہی بناے ہوے نیں تے اوہناں اچ اونی ہی عقل اے جنی اوس نے دتی ۔۔۔ پر۔۔۔۔پر اوہ کسے قسم دا خطرہ مل نہیں لے سکدا۔
اوہ بٹن دباندا اے تے سارے روبوٹ جس انداز اچ کم کر رہے سن اوتھے ہی کھلو جاندے نیں۔چپ چان۔۔۔پر نیلی ٹوپی والا ہالی تیک حرکت اچ اے بلکہ واری واری اپنے ہر ساتھی کول جا کے اپنی ٹوپی اتاردا تے اوہدے سر تے رکھدا اے۔آخری ساتھی کولوں واپس پرتدا اے تے کافی دیر بعد لیبارٹری اچ کھسر پھسر دیاں آوازاں اوندیاں نیں۔
ہن سارے روبوٹ نیلیاں ٹوپیاں پائی کھلوتے نیں۔کیبن والے نوں ایہہ صورت حال کسے پج ویْ قبول نہیں۔اوہ ہر حالت اچ، ہر قیمت تے آکسیجن دی چوکھی توں چوکھی مقدار اپنے قبضے اچ رکھنا چاہندا اے۔اییدے اچ ای اوہدی بچت اے تے انج کرن واسطے اوہدے کول کئی کلیشے، گھڑے گھڑاے فارمولے، اصول تے فلسفے نیں۔ریوالونگ چییر گھما کے اوہ مختلف فون نمبر ملاندا اے پر رابطہ ختم ہو چکیا اے۔اوہ کرسی دا رخ تبدیل کردا اے۔ بے دلی نال کنٹرول پینل دا اک سوچ آن کردا اے۔شیشے دے کیبن دا دروازہ چھٹاک کر کے ٹٹ جاندا اے۔نیلی ٹوپی والا روبوٹ اوہدے سامنے آ کھلوندا اے۔اوہ وساکھیاں دا سہارا لے کے کرسی توں اٹھن دی کوشش کردا اے پر نیلی ٹوپی والا اوہدیاں وساکھیاں کھو کے اپنیاں بغلاں ہیٹھ دبا لیندا اے تے اوہنوں کیبن توں باہر سٹ دیندا اے۔
باہر گرمی آخراں تے وے۔سورج دی روشنی اگ دے لمبواں ہارپھیل چکی اے تے کاربن ڈایی آکساییڈ زمین دے مساماں تیک جا اپڑی اے۔۔۔۔


منگل, ستمبر 22, 2015

ELIF SHAFAK

الف شفق         
         میری پسندیدہ تخلیق  کار

الف شفق فرانس میں ترکش نژاد والدین کے ہاں پیدا ہوئی۔ کمسنی میں ہی ماں باپ کی علیحدگی کے بعد ماں کی گود میں پروان چڑھی۔ اس غیر معمولی بچپن نے بعد میں اسکی تحریروں پر گہرا اثرمرتب کیا۔ ناقدین ادب کے مطابق وہ ترکی اور عالمی ادب میں ایک منفرد آواز ہے۔ اسنے کل ۱۴ کتابیں لکھی ہیں جن میں ۹ ناول ہیں۔ یہ کتابیں ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہیں اور کئی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ادیب ہونے کے علاوہ وہ ایک سیاسی سائنسدان بھی مانی جاتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری کے علاوہ اسنے جینڈر اند ویمن سٹدیز میں ایم اے کیا اور پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی۔ ۲۰۱۴ میں اسنے بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا اور وہ راک موسیقاروں کے لئے گانے بھی لکھتی ہے۔ اسکی کہانیوں میں عورت، اقلیتیں،تارکینِ وطن، عام لوگ اور عالمی ارواح کا ذکر ملتا ہے۔ اسکے ناولوں میں اقوامِ عالم کے مختلف کلچر، روایات، تاریخ، فلسفہ،صوفی ازم اور کلچرل سیاست کے علاوہ مشرق و مغرب کے خوبصورت امتزاج موجود ہوتے ہیں۔ اسکے پہلے ترکی ناول پناہ کو ادبی ایوارڈ ملا۔ناول The Gaze کوبہترین ناول گردانتے ہوئے یونین پرائز دیا گیا۔ ناول The Flea Palace کو بیسٹ فکشن ایوارڈ ملا۔ دیگر بہت سے ناول انعام کے حق دار ٹہرے۔ 
میں نے بھی حسبِ توفیق اور باعثِ دستیابی الف شفق کے کچھ ناول مطالعہ کئے۔ ناول
Forty Rules of Loveکسی بھی قسم کے تھرل کی غیر موجودگی کے باوجود بہت کم وقت میں بہت زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ صرف ترکی میں اس ناول کی ۶ لاکھ کاپیاں خریدی گئیں اور اسے فرانس نے سپیشل لٹریچر ایوارڈ دیا۔ مرتبے اور ثقافتی نمود کی نفی کرتا ہوا یہ ناول سترھویں صدی کی ممتاز شخصیات، مولانا روم اور شمس آف تبریز کے بارے میں ہے۔ (شمس آف تبریز اور ملتان والے شمس تبریز الگ الگ روحانی شخصیات ہیں ) شمس آف تبریز ایک فقیرمنش ، بے گھر عالم تھا جو قرآنِ پاک کی تشریح محبت اور عفو کے عنوان سے کرتا تھا ۔ اس وقت کے خود مقرر کردہ محافظ دین اسکی تشریحات کو ناپسند کرتے تھے۔رومی سے اسکی ملاقات، گویا اسکا مقدر تھی۔دونوں بزرگوں کا یہی خیال ہے کہ انکی ملاقات میں واقعی تقدیر کا ہاتھ تھا۔ اس ناول میں کہانی زیادہ تر شمس کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ شمس کی سیلانی طبیعت انہیں بغداد کے شہر کونیا میں کھینچ لائی جہاں رومی پہلے ہی سے ایک جید مقرر اور عالمِ دین مانے جاچکے تھے۔ الف شفق نے بہت خوبصورتی اور چابک دستی سے قرونِ وسطی کے ترکی کو جگایا ہے۔ اس میں اسکے کردار درویش، عام لوگ، گناہ کار، بھکاری، پیروکار اور بیسوائیں ہیں جو زبان رکھتے ہیں۔ رومی کے اپنے بیٹے اور بیوی بھی بولنے کا حق رکھتے ہیں۔ جوں جوں رومی اور شمس کی دوستی گہری ہوتی جاتی ہے گھر کے افراد الگ تھلگ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس ناول میں بس یہی کرادر نہیں۔ ایلا اور ۴۰ یہودی بیویاں ہیں۔ ایلا ، خاندان، تحفظ اور پر عیش زندگی کی مالک ہونے کے باوجود اپنے شوہر، اپنی زندگی حتی کہ خود اپنے آپ سے بیزار ہے۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک اشاعتی ادارے میں نوکری کرتی ہے جہاں وہ مسودے پڑھتی ہے۔یہیں شمس اور رومی کے حوالے سے لکھے ایک ناول کا مسودہ اسکی نظر سے گزرتا ہے۔ یہی وہ مسودہ ہے جو اس ناول کی بنیاد ہے۔ ناول میں دو الگ الگ کہانیاں ہیں جن کو آپسمیں جوڑا گیا ہے لیکن یہ بنت اتنی بھاری بھرکم بن گئی ہے کہ باقی کے ناول کو ۔۔۔۔۔۔کر دیا ہے۔یہ ناول ، محبت، ماضی، حال، روحانی اور دنیاوی معاملات کو شمس آف تبریز اور رومی کی روحانیات کے آئینے میں عکس کرتا ہے۔ وہ لوگ جو زندگی کی حقیقت اور اسمین پوشیدہ رموز کی تلاش میں ہیں، انکو یہ ناول بے حد پسند آئے گا۔ 
The Bastard of Istanbul
الف شفق کا یہ چھٹا ترکی ناول ہے اور انگریزی میں دوسرا۔ یہ دو خاندانوں کی کہانی ہے ۔ ایک ترک خاندان جو استنبول میں رہتا ہے اور دوسرا آرمینائی جو سان فرانسسکو میں ہے۔ چونکہ الف شفق بذاتِ خود ایک پر جوش
feminist ہے اسلئے اس ناول میں پر جوش اور ناقابل گمان عورتوں کے کرداروں کی بہتات ہے اور پورے ناول میں صرف ایک مرد کردار ہے اور وہ بھی کردار کم اور سمبل زیادہ ہے۔ شروع ہی سے اس کردار کا ذکر ادھر ادھر ملتا تو ہے لیکن اسکی کوئی حقیقی اہمیت نظر نہیں آتی۔ اس کہانی میں مصنفہ، اپنے ملک ترکی کے متشدد ماضی کو واضح کرتی ہے اور ۱۹۱۵ میں آرمینیوں پر ترکوں کے ظلم و ستم کا بیان کرتی ہے۔ روز ایک امریکی خاتون ہے جو اپنے آرمینی شوہر کو طلاق دے کر ایک ترک سے شادی کرتی ہے اور اس بات کا حض لینا چاہتی ہے کہ اسکی پہلے شوہر سے بیٹی آرمانوش کو اب ترک خاندان پالے گا۔ آرمانوش اپنے آپ کو امریکی ماں، ایریزونا میں ترک سوتیلے دادا، اور سان فرانسسکو میں آرمینائی باپ اور نانی کے درمیان پاتی ہے اور ان دونوں خاندانوں میں یگانگت کی کوشش کرتی ہے۔ الف شفق نے یہاں ان آرمینیوں کو ترک دشمن دکھایا ہے اور وہ اپنی آرمنوش کو ہر قسم کا تحفظ دینا چاہتے ہیں۔آرمونوش ، آرمینین، امریکن چیٹ گروپ کے ذریعے اپنی آرمینائی جڑوں کی تلاش میں ہے اور ہر قسم کے بحث مباحثے میں حصہ لیتی ہے جن میں آرمینیوں کے قتلِ عام کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں اسے اپنے سوالوں کے درست جواب نہیں ملتے تو ایک دن وہ ماں باپ کو بتائے بغیر استنبول روانہ ہو جاتی ہے۔ استنبول پہنچ کر وہ اور زیادہ پریشان ہوتی ہے کہ اس خاندان کی عورتیں اسکی سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ایک پڑ نانی جو یاداشت کھو چکی ہے، ایک ناراض ناراض الگ تھلگ نانی، ایک بیٹی جو اپنے آپ کو۔۔۔۔۔سمجھتی ہے، دوسری بیٹی ایک سکول ٹیچر، تیسر ی بیٹی اپنی تصوراتی دنیا میں مگن اور سب سے چھوٹی، جنگجو اور ایک ٹیٹو پارلر کی مالک۔ اسی کی ایک حرامی بیٹی آسیہ۔ جلد ہی آسیہ اور آرمونوش کی گہری دوستی ہو جاتی ہے۔ Bastard اسی آسیہ کی کہانی ہے اور ناول کے آخر میں قاری پر ایک حیران کن انکشاف ہوتا ہے اور الف شفق واحد مردانہ کردار مصطفی کو آرمینایوں کے قتلِ عام کا سمبل بناتی ہے۔ اس ناول کی بنا پر مصنفہ پر مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن پھر عدم دلچسپی کی بنا پر خارج کر دیا گیا۔ یہ ناول قاری کوشفق کی دیگر تصانیف پڑہنے پر ابھارتا ہےَ ۔ اسکی تحریر میں تاریخی واقعات کو کمال مہارت سے قاری تک پہنچایا گیا ہے۔ سسپنس اور اپنے کرداروں کے ساتھ بونے میں شفق کو کمال حاصل ہے۔ صوفیا ء کا ذکر اور انکا مباحثہ و مناظرہ پڑہنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 
The Flea Palace ترکی میں لکھا گیا لیکن اسکا انگریزی ترجمہ بھی کمال کا ہے۔ یہ ناول شہر استنمبول کی شان، شدت اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ کہانی بون بون پیلیس میں رہنے والے لوگوں پر مشتمل ہے اور اسی ایک عمارت اور اسکے مکینوں کا بیان کرتے ہوئے شفق نے بتایا ہے کہ ترکی کس طرح مغربی یورپ کے ملکوں سے الگ تہذیب رکھتا ہے۔ اس ناول کے ایک ایک صفحے سے شفق کی استنمبول کے لئے محبت آشکار ہے۔ 
The Black Milkشفق کا یہ ناول ایک تجربہ ہے۔ ایک خاتون مصنف کا ماں بننے کا تجربہ۔ وہ اس وقت اپنے اندر کسی اور ہی عورت کا وجود محسوس کرتی ہے اور اسے ایک ڈیپریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد ماں بننے کا بمقابلہ مصنف ہونے کے۔ وہ کئی ایسی خاتون لکھاریوں کا ذکر کرتی ہے جو اس ڈیپریشن میں مبتلا رہیں۔ شفق کا خیال ہے کہ لکھاری باطنی رویہ introvert رکھتا ہے اور ایک ماں غیر باطنی۔ extrovert۔ اسکے مطابق ناول نگار کے ذہن میں کئی چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں جن کو وہ لکھتے وقت مقفل کر دیتا ہے اور اپنے تمام راز لوگوں کی آنکھوں سے چھپائے رکھتا ہے جبکہ ایک ماں کے گھر کے تمام دروازے ہر موسم اور دن رات کھلے ہوتے ہیں اور بچے جب چاہیں اندر باہر آ جا سکتے ہیں۔ بہر حال اسکا یہ احساس ناول کے اختتام پر قابو میں آ جاتا ہے۔ 
The Gaze شفق کا یہ ناول بے حد دلچسپ ہے۔ مس فٹ افراد کے ساتھ معاشرہ جو سلوک کرتا ہے، اس ناول کی تھیم ہے۔ کہانی وکٹوریہ دور کے ایک ناظم تھیٹر کرمت آفندی کی ہے جو دیگر کرداروں کی کچھڑی میں الگ سا دکھائی دیتا ہے۔ایسا معاشرہ جہاں ظاہری نمود و نمایش اور دکھاوا ہی سب کچھ ہو، وہاں ایک عجیب الخلقت کا ہونا کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ شفق نے اس ناول میں کئی ایسے کرداروں کے حوالے سے اس نفرتی رویے کو رد کیا ہے۔ یہ ناول بلا شبہ ایک حیران کن تحریر ہے۔ 
The Architect’s Apprentice ، الف شفق کا یہ ناول ۱۵۴۶ سے ۱۶۳۲ تک کی سلطنت عثمانیہ کے عہد کی ایک جھلکی ہے۔ اسکی کہانی ایک خطاب یافتہ معمار سنان اور اسکے شاگرد شاہجہان کے بارے میں ہے۔ شفق کے اکثر کردار معاشرے کے غیر اہم افراد ہوتے ہیں جو امرا ء، روساء اور مذکر مونث کی تخصیص کے حامل لوگوں کے زیر نگیں رہتے ہیں۔ شفق کے کردار عثمانی محلات کے ہجم دار، جادوئی، خفیہ راستوں، میدان جنگ ، حرم میں اسطرح سے گھومتے پھرتے ہیں کہ پڑہنے والا ان کو اپنی نظر کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ اگرچہ کہانی کا پلاٹ کچھ کمزور لگتا ہے لیکن سسپنس لئے چھوٹے چھوٹے واقعات کہانی کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ شفق کا استمبول ایک چنچل شہر ہے، زندہ اور جاندار ، جہاں توہم پرستی کا راج ہے اور لوگوں کی شہرتیں دربار تک پہنچتی ہیں اور اثر رکھتی ہیں۔ عظیم معمار سنان کا اپنے شاگردوں کو پہلا سبق ’’ کسی پل کو گرانا، پل بنانے سے کہیں زیادہ آسان کام ہے ‘‘ عثمانی فن تعمیر کا بنیادی اصول لگتا ہے۔

اتوار, ستمبر 20, 2015

صرف ایک زمین


راشد جاوید احمد

وہ پل پر پہنچتا ہے، رک کر سانس ہموار کرتا ہے، سر اوپر اٹھاتا ہے۔ درختوں پر پرندے مختلف بولیاں بولتے ہیں، وہ گہری سانس لیتا ہے، پاکیزہ ہوا کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔کوئل گھونسلے سے گردن نکال کر اسے دیکھتی ہے۔ وہ جسم ڈھیلا چھوڑتا ہے اور پانی میں اتر جاتا ہے۔
سو فیٹ چوڑا راجباہ اسکے بازوءں کے حلقے میں سمٹ آتا ہے۔ پانی اتنا صاف ہے کہ باہر کھڑے لوگ اس کے تیرتے ، بل کھاتے جسم کی ہر حرکت ہر زاویہ دیکھ پاتے ہیں۔ پل کی دوسری جانب لہلہاتے کھیتوں میں مکئی اور جوار کی فصلیں ایستادہ ہیں۔ پکی سڑک کے آر پار، دوکانوں سے متصل، مسجد اور پچھواڑے میں راجباہ کی کچی پٹڑی پر کچے مکان ہیں۔ صرف چائے والے کا کھوکھا پکا ہے۔ سبزی والا، مٹھائی والا اور رحمت سایئکل ورکس، سب کچے کھوکھوں میں اپنا اپنا رزق کما رہے ہیں۔
 
’’ میاں ۔ یہ بات بہرحال اچھی نہیں۔۔‘‘پان کا بیڑہ کلے میں دبا ئے، سیشن جج کا ریڈر کہتا ہے
’’ معلوم ہوتا ہے اسے کسی اور کام میں دلچسپی ہی نہیں۔۔۔‘‘ مولوی صدرالدین مسجد سے باہر نکلتے ہوئے اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
’’ اجی ہمارا کیا لیتا ہے۔۔۔‘‘ منشی میر دین ، رحمت سایئکل ورکس پر کھڑے پمپ سے ہوا بھرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’ لیکن یہ بتا دوں کہ ایک دن پچھتائے گا۔۔۔‘‘ ریڈر اپنی دستار سر پر ٹھیک سے جماتے ہوئے کہتا ہے۔
’’ ہاں۔ ایک دن پانی اس کے پھیپھڑوں میں گھس جائے گا اور ۔۔بس۔۔۔‘‘
’’ نہیں جمالے۔ تم نہیں جانتے، وہ بڑا مشاق ہے، دو گھنٹے پانی میں تیرتا ہے لیکن پانی کو پاس نہیں آنے دیتا۔ ۔۔۔‘‘احمد سعید اپنی عینک کے شیشوں سے گرد صاف کرتے ہوئے کہتا ہے اور پل کی جانب سے آنے والے تانگے پر بیٹھ جاتا ہے۔
 
’’ ہونہہ، پانی پاس نہیں آنے دیتا۔۔یہ کل کا لونڈا نہ جانے کیا ہانک گیا ہے۔۔۔‘‘
 
’’ ہاں جی میاں جی۔۔دیکھو کیسی بات کر گیا ہے۔ پانی پاس نہیں آنے دیتا ؟ اور اسے تو دیکھو، پہلے کنارے کنارے دوڑتا ہے، پھر سانس لینے کے لئے شیشم کے اُس بڑے درخت کے نیچے رکتا ہے اور پرندوں سے باتیں کرتا ہے۔پھر پانی میں چھلانگ۔۔۔۔‘‘
مجھے تو وہ کوئی اور ہی مخلوق لگتا ہے، انسانوں سے تو بات ہی نہیں کرتا۔۔۔‘‘
’’ نہیں جمالے، ہے تو وہ انسان ہی، بیوی ہے، بچہ ہے، شہر میں کام کرنے جاتا ہے بس ہے ذرا مختلف سا۔۔۔‘‘ احمد سعید چلتے تانگے سے اعلان کرتاہے۔
’’ اچھا بھائی جمال دین۔ اب چلیں۔ کچہری کا وقت ہونے والا ہے لیکن اتنا اسے بتا دینا کسی طرح کہ یہ بات اچھی نہیں۔ ۔۔۔‘‘
اسکے ساتھ ہی جمال دین کی دوکان روزمرہ کے گاہکوں سے خالی ہو جاتی ہے البتہ مولوی صدر الدین اپنی براون داڑھی پر ہاتھ پھیرتے لجاجت زدہ لہجے میں تانبے کی پتیلی آگے بڑھا کر کہتے ہیں
’’ بھائی جمال دین۔۔ ذرا دینا تو۔۔۔‘‘
جمال دین بالائی بھرا ایک سیر دودھ پتیلی میں انڈیل دیتا ہے
’’ اور ہاں۔۔ رات کو یاد ہے ناں۔۔۔‘‘
’’ یاد ہے ، مولوی صاحب یاد ہے۔۔۔۔‘‘ مولوی صاحب کے جانے کے بعد جمال دین ایک میلی پرانی کاپی نکالتا ہے اور مولوی صاحب کے نام کے آگے ایک سیر دودھ مع بالائی لکھ دیتا ہے۔
 
وہ تیرتا ہوا پل کی جانب آتا ہے۔ پل کے شکستہ جنگلے کا سہارا لیکر پانی سے باہر نکلتا ہے اور جنگلے سے ہی ٹیک لگا کر تھوڑی دیر سستاتا ہے۔ پھر پل کی بائیں جانب جہاں کچے پکے مکانات بنے ہیں ، لمبے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہو جاتا ہے۔ مسجد کے حجرے کی کھڑکی سے مولوی صدرالدین کی آنکھیں اسے گھورتی ہیں۔وہ بے خبر چلا جا رہا ہےَ ۔ ریڈر صاحب کا چھوٹا بیٹا اپنے گھر کے پکے تھڑے کے آگے بلور کی گولیاں کھیل رہا ہے۔ ایک گولی لڑھکتی ہوئی اسکے پاوں کے نیچے آتی ہے۔ وہ جھک کر گولی اٹھاتا ہے اور بچے کے ہاتھ میں دے کر اسکا چہرہ تھپتھپاتا ہے۔ بچے کی ماں پردے کی اوٹ سے بچے کو اندر کھینچ لیتی ہے اور وہ شرمندگی سے مسکراتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔
 
’’ روٹی ادھر چنگیر میں رکھی ہے گلزار۔۔۔‘‘ بشری کچی مٹی کی دیواروں پر لیپ کرنے کے بعد ہاتھ دھوتے ہوئے کہتی ہے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اوزاروں کا تھیلا کاندھے پر لٹکاتا ہے اور پیدل ہی شہر کی جانب ہو لیتا ہے۔ پھل والا، سبزی والا، رحمت اور جمال دین ، سب اسے جاتا دیکھتے ہیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں گفتگو کرتے ہیں۔
 

اندھیرا گہرا ہوتے ہی حبس پر پھیلا لیتا ہے۔ لالٹین کی ملگجی روشنی میں زوروں کی بحث ہو رہی ہے۔
 
’’ اجی باز کیسے نہیں آئے گا۔۔۔‘‘ حقے کی نے جمالے کی طرف کرتے ہوئے مولوی صاحب کہتے ہیں
’’ وہ اس بستی میں رہتا ہے، صبح کے علاوہ نظر نہیں آتا، کسی سے بات نہیں کرتا، آخر وہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔‘‘
’’ انسانی جسم کے ساتھ بے شمار آلایشیں ہوتی ہیں۔۔وہ مسلسل پانی کو گندہ کر رہا ہے۔۔۔‘‘ مولوی صاحب نے گلا کھنکار کر کہا۔
 
’’ اب کچھ کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ وہ متفقہ فیصلہ کرتے ہیں۔
 

ایک لمبی دوڑ کے بعد وہ پل پر پہنچتا ہے۔ سر اوپر اٹھاتا ہے ۔ کوئل اپنے گھونسلے میں پریشان نظر آتی ہے۔ گہری سانس لے کر وہ فضا کی ہوا اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ ھیرانی اسکے ماتھے سے پھوٹتی ہے۔ ہوا اسے کچھ بوجھل محسوس ہوتی ہے۔ لیکن وہ اسے وہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کرتے ہوئے پانی میں اتر جاتا ہے۔ دو گھنٹے کی تیراکی کے آخری مرحلے میں وہ پل کی جانب آتا ہے کوئی نرم نرم چیز پانی میں اسکے سر سے ٹکراتی ہے۔ خاکی رنگ کا لفافہ اسکے ہاتھوں میں کھل جاتا ہے۔ گندگی اسکے ہاتھوں پر پھیل جاتی ہے۔کچھ نہ سمجھتے ہوئے وہ ہاتھ پانی میں مار مار کر گندگی باہر نکالنے کی بے سود کوشش کرتا ہے۔
 

’’ روٹی چنگیر میں رکھی ہے گلزار۔۔۔‘‘ وہ روٹی کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔بشری کی گود میں ہمکتے بچے کو ماتھے پر بوسہ دیتا ہے اور اوزاروں کے تھیلے سمیت گھر سے باہر نکل آتا ہے۔
 
حبس کل کی نسبت زیادہ ہے
رات کافی بیت چکی ہے لیکن جمال دین کی دوکان ابھی کھلی ہے۔ اب یہاں گئی رات تک مباحثے چلتے ہیں۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ گھونسلے کے تنکے سوکھتے جاتے ہیں۔ گندگی روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔ پہلے وہ دو گھنٹے تیرتا تھا اب بمشکل ایک گھنٹہ اور باقی ایک گھنٹہ اسے گندگی پانی سے باہر نکالنے میں لگتا ہے۔ اسکی پیراکی کا عرصہ دو گھنٹے سے ایک، پھر نصف اور اب پندرہ منٹ رہ گیا ہے۔ کچی پٹڑی پر ننگے پاوں چلتے ہوئے یکدم اسکی چیخ بلند ہوتی ہے۔ پاوں میں چبھنے والے شیشے نے اسکا پاوں زخمی کر دیا ہے۔ لہو کے قطرے اسکی سمت کا پتہ دیتے ہیں۔ کئی دن بعد وہ گھر سے نکلتا ہے تو کچی پٹڑی جو اسکے لئے ریس گراوئنڈ تھی ، پرانی لیروں، چمڑے کے ٹکروں، آہنی کیلوں، پھلوں سبزیوں کے چھلکوں سے اٹی پڑی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا پل پر پہنچتا ہے۔ سر اٹھا کر درختوں کی طرف دیکھتا ہے، حیرانی اسکے سارے جسم میں دوڑ جاتی ہے۔ نہ گھونسلہ نہ درخت، وسیع و عریض راجباہ ایک بد رو کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ پل پر لگے جنگلے پر ہاتھ پھیرتا ایک طرف سے دوسری طرف جاتا ہے۔تعفن اور سڑانڈ اسکے نتھنوں میں در آتے ہیں۔ مایوس و لاچار وہ پل سے اتر کر گھر کی جانب آتا ہے۔ حجرے کی کھڑکی سے، جمال دین کے ہوٹل کی بالکنی سے، ریڈر کے دروازے کی چلمن سے امید بھری آنکھیں اسے گھورتی ہیں۔ وہ گھر کے اندر جاتا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہ اپنا دایاں پاوں باہر نکالتا ہے، پھر بایاں پاوں ، پھر اسکا سر نظر آتا ہے اور کاندھے پر اوزاروں کا تھیلا۔
 
’’ مگر اسے تو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔‘‘ گھورتی آنکھیں ایکدوسرے سے سوال کرتی ہیں۔ لیکن جلد ہی خوشی سے منور ہو جاتی ہیں۔ اب وہ پوری طرح گھر سے باہر ہے۔ اسکے دوسرے کاندھے پر ایک اٹیچی کیس ہے، بشری بچے کو اٹھائے اس کے عقب سے نکل کر سامنے آتی ہے۔ اوزاروں کا تھیلا اور اٹیچی چھین کر گھر کے اندر پھینکتی ہے۔
اب وہ دونوں اسی زمین پر بیٹھے، زمین میں پیوست کانچ کے ٹکڑے، پرانی لیریں اور چھلکے نکال کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک رہے ہیں ۔ نیم برہنہ بچہ اسی زمین پر بیٹھا کلکاریاں مار رہا ہے۔

جمعہ, ستمبر 18, 2015

تیز دھوپ میں کھلا گلاب


راشد جاوید احمد

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اسنے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجایش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔
 
اگرچہ مٹھو نے لان میں بکریوں کے آنے کا جو نقشہ پیش کیا تھا وہ میرے غصے کو آخری درجے تک پہنچانے کے لئے کافی تھا لیکن ارسطو کا نظریہ حکومت بھی غیر دلچسپ نہیں تھا۔ کتاب میں بک مارک رکھ کر میں کمرے سے باہر ٹیرس پر آ گیا۔ بکریاں اگرچہ اب لان میں نہیں تھیں تاہم وہ قریب ہی تھیں اور ایک بار پھر پودوں پر حملہ آور ہو سکتی تھیں۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو میرے پور چو لاکا کے چار پودے تو بالکل غائب تھے۔ ٹیرس کے جنگلے سے ہی میں اس عورت پر برس پڑا۔ وہ اپنے اوڈ لہجے میں نہ جانے کیا بڑ بڑا رہی تھی جو کتے کے مسلسل بھونکنے کی وجہ سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ آخر مجھے نیچے آنا ہی پڑا۔ عورت پھٹے پرانے نیلے رنگ کے پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس ، ننگے سر ننگے پاوں زمین پر متھلا مارے بیٹھی تھی۔ دھوپ کی حدت سے اسکا رنگ سیاحی مائل سرخ تھا۔ اسکے گلے میں گلٹ کا بنا ہوا بھدا سا نیکلس، کانوں میں پیلے رنگ کے جھمکے اور ناک میں اسی رنگ کی بلاقی تھی۔ اسکی کلایؤں کی ہڈیاں مضبوط تھیں اور اس امر کی گواہ تھیں کہ وہ زیر تعمیر عمارتوں میں اینٹیں ڈھونے اور بیلچہ چلانے کا کام کرتی ہے۔ مجھے اپنے قیمتی پودوں کے ضایع ہونے کا اتنا رنج تھا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا
’’ کچھ معلوم ہے تمہیں۔۔۔؟ تم نے میرا کتنا نقصان کر دیا ہے۔۔۔‘‘
’’ کیا ہوا، ذرا بکریوں نے منہ مار لیا ہے۔۔۔‘‘
’’ یہ ذرا ہے، پورے چار پودے غائب ہیں اور تم کہہ رہی ہو ذرا۔۔۔‘‘
’’ کوئی بات نہیں صاب، اللہ اور دے گا۔۔آخر بے زبان بکریوں نے بھی تو کچھ کھانا ہے نا۔‘‘
اسکی یہ منطق سن کر تو میں اور آگ بگولا ہو گیا۔
’’ بکریوں نے کھانا ہے تو میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے، ان کا دودھ تم پیتی ہو، مجھے کوئی حصہ تو نہیں ملتا۔۔۔‘‘
’’ ایمان سے میری نہیں ہیں ، مجھے تو ان کو چرانے کے روز دس روپے ملتے ہیں ۔۔۔‘‘
’’ مجھے نہیں معلوم دس ملتے ہیں کہ بیس، تم نے میرا چارسو کا نقصان کر دیا ہے اور اوپر سے باتیں الگ بنا رہی ہو۔۔۔اگر میں ان پر اپنا کتا چھوڑ دیتا تو بکریوں سمیت تم کو بھی کھا جاتا۔۔‘‘
’’ ہان ہاں چھوڑ دو ہم پر کتے، اب یہی کثر تو رہ گئی ہے، تم بھرے پیٹ والے ہو، پیسے والے ہو، تمام خالی جگہیں خرید کر تم نے گھر بنا لئے ہیں ۔۔۔اب ہم پر کتے ہی چھوڑو گے۔۔ذرا روٹی کا آسرا ہے، وہ بھی چھین لو گے۔۔۔؟‘
بک بک کرتی وہ اٹھی اور پتلی چھڑی سے ہانکا کرتی بکریوں کو ہماری گلی سے باہر لے گئی۔ میں اس وقت بہت غصے میں تھا۔ دراصل میں نے بڑی محنت سے پہلے پنیری تیار کی، پھر کافی انتظار کے بعد انہیں الگ الگ کیاریوں میں لگایا تھا اور ابھی ان پر پھول آئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ بکریوں نے دن کے وقت شب خون مار دیا تھا۔ میں نے لان کا جائزہ لیا تو وہاں صرف یہی چار پودے غائب نہیں تھے بلکہ بکریوں کی یلغار سے گارڈینیا کی باڑھ بھی ایک جگہ سے ٹوٹ چکی تھی ۔ البتہ گِل نافرمان کا پودا ڈرا ٹیڑھا ہوا تھا۔ میں نے فورا کچھ اینتٰن چن کر اسکے گرد رکھ دیں۔
 
سہہ پہر کی چائے تیار تھی اور میری بیوی مجھے چائے کے لئے آوازی دے رہی تھی۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور اوپر جا کر چائے پینے لگا۔ ہم میاں بیوی اس سلسے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ ایک دوسرے کا موڈ پہچانتے ہیں۔ میرا غصہ کم کرنے کے لئے اسنے ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیں اور میں بھی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔ میری نظریں تو کتاب پر تھیں لیکن میرا ذہن ضایع ہوئے پودوں اور عورت کی باتوں میں اٹکا تھا۔ مجھے وہ عورت، اسکی مضبوط کلائیاں، اسکا مادر زاد ننگا بچہ، کڑتن سے بھرے تلخ الفاظ ، رہ رہ کے یاد آ رہے تھے۔۔موٹے پیٹ والے۔۔۔پیسے والے۔۔۔بیوقوف عورت اتنا بھی نہیں جانتی کہ یہ گھر میرا نہیں بلکہ کرائے کا ہے اور ہم دونوں محنت مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے اسکی بے وقوفی اور سادگی پر ترس آنے لگا۔ پھر مجھے دیگر مزدور عورتوں کے ساتھ ساتھ نوکری پیشہ خواتین کا خیال آیا۔ مجھے اپنے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کا خیال آیا کہ میں ان کا ہمیشہ احترام کرتا ہوں۔ بات بے بات شکریہ ادا کرنا، خوش مزاجی سے پیش آنا، انکے نقطۂ نظر کا حتی المکان احترام کرنا۔۔۔آخر میں یہ سب کیوں کرتا ہوں۔۔۔کیا میں دفتر میں ایک خول چڑھائے رکھتا ہوں ۔۔نہیں، ہر گز نہیں، میں اس بات پر پوری طرح یقین رکھتا ہوں کہ اس میل ڈومی نیٹڈ معاشرے میں عورت، مرد سے کہیں زیادہ جبر کا شکار ہے۔ میں نے عورت کو ہمیشہ اپنے جیسا انسان ہی جانا ہے اور اسے جنس یا کم تر جنس کے حوالے سے کبھی نہیں دیکھا۔ میں اپنی بیوی کی ہر رائے کا احترام کرتا ہوں اور ایک رفیق کی مانند اسکی مدد کرتا ہوں۔ گھر کے کاموں میں اسکا ہاتھ بٹاتا ہوں لیکن اس بکریاں چرانے والی عورت کی ذرا سی لا پرواہی پر میں اتنا سیخ پا کیوں ہو گیا۔ کیا یہ جعلی پن ہے ؟ سوچوں تو کیا میں اکیلا اتنے بڑے ریوڑ کو قابو کر سکتا ہوں۔ کیا میں اس عورت کی جگہ اپنی بیوی، بہن، کولیگ یا دوست کو تصور کر سکتا ہوں ؟ میرے ذہن کی رو اسی طرف ہے اور ارسطو کا نظریہ حکومت وہیں رہ گیا ہے۔ میں نے کتاب بند کر دی ہے اور سگریٹ سلگا لیا ہے۔ اس عورت کے ساتھ میرا مکالمہ مجھے بار بار یاد آ رہا ہے۔ میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھ سے زیادتی ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے معافی مانگنا چاہئے۔ ہاں کل، یا اگلے چھٹی کے روز یا جب وہ نظر آئے۔
سہہ پہر کا وقت ہے۔ چھٹی کا دن ہے۔ کتا زور زور سے بھونک رہا ہے۔ میں نیچے آتا ہوں، گیٹ کھولتا ہوں۔۔۔وہی عورت۔۔۔میں اپنے آپ میں ہمت نہیں پاتا۔۔۔میں لان کے ایک کونے میں کھڑا ہو جاتا ہوں جہاں سے میرا خیال ہے کہ بکریاں آ سکتی ہیں، بس میں انہیں روک لوں گا۔
 
’’ فکر مت کرو بابو۔۔۔میرا دھیان ہے۔۔‘‘ عورت اوڈ لہجے میں کہتی ہے اور کوڑے کرکٹ سے بھری زمین پر متھلا مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اسکی گود میں وہی بچہ ہے اور وہ بڑے پیار سے اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے اسکے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ میں حیران و ششدر وہیں کھڑا رہ جاتا ہوں۔


منگل, ستمبر 15, 2015

مفلر


راشد جاوید احمد


یہ وہ دن تھا جب اس نے کچھ میٹر مزید کپڑا بننے کے بعد باقی دھاگہ سمیٹا اور کپڑے کو کھڈی کی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ اس کپڑے پر جو اب ایک نہایت ہی خوبصورت چادر کی شکل اختیار کر چکا تھا بار بار ہاتھ پھیر کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بادامی رنگ کے سلک کی یہ چادر اس نے کئی راتوں کی محنت کے بعد تیار کی تھی اور اسکے چاروں کونوں پر ہلکے نیلے رنگ کے پھول بھی کاڑھے تھے۔ اس نرم و نفیس سلک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اسکا ہاتھ مسلسل محنت سے نیلا پڑ چکا تھا۔ چادر طے کرتے ہوئے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں جھانکا۔ نیلے ہاتھ سے سر کے بال، جو اسکی موٹی دلکش آنکھوں پر آئے تھے پیچھے ہٹائے۔ اسے اپنا چہرہ، رخسار، جلد سب کے سب سلک کی طرح ملائم نرم اور نیلاہٹ لئے ہوئے لگے۔ قدموں کی آہٹ سن کر اس نے چادر ایک ایسے صندوق میں چھپا دی جس کو شاید ہی کبھی سال دو سال میں ایک بار کھولا جاتا تھا۔


اونچے، بلند پہاڑوں اور درختون سے گھری یہ بستی آٹھ گھروں پر مشتمل تھی اور ہر گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھا۔ پہاڑ کی تراش خراش اور کہیں تنگ اور کہیں کھردرے راستوں کے باعث جہاں کسی کو جگہ مناسب لگی اس نے گھر بنا لیا، کوئی اونچا کوئی نیچا۔ اس بستی میں ابھی تک بجلی نہیں تھی اور رات کو جب ان میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تو یہ روشنی دور سے ایک منحنی سی روشن لکیر نظر آتی۔ گھروں کے دروازوں کا رخ اس ندی کی جانب تھا جو ان گھروں سے تقریبا بیس فٹ نیچے بہہ رہی تھی۔ یہ کسی دریا کا حصہ تھی اور چند ایک قدرتی چشمے بھی اس میں گرتے تھے اسلئے وہاں ہر وقت پانی موجود رہتا تھا جو سورج کی روشنی میں ایک پنے کی صورت چمکتا نظر آتا، البتہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں پانی کے بہنے کی آواز میں دلفریب موسیقیت تھی۔ آٹھ گھروں کی اس بستی میں ہتھ کھڈیاں تھیں۔ یہاں کے مرد چالیس کوس کا فاصلہ طے کر کے بُنائی کے لئے خام مال خرید کر لاتے اور ان کی عورتیں دھاگہ بنتیں اور حیران کن خوبصورت ڈیزائین کی چادریں، مفلر ٹوپیاں، واسکٹ حتی کہ بستر میں پاوں گرم رکھنے والے موزے بھی تیار کر لیتیں۔ یہی یہاں کی معاشیات تھی۔ اگرچہ تمام مال شہروں میں پہنچ کر سستے داموں بکتا تھا تاہم اتنے دام مل جاتے تھے کہ ضروریات زندگی اور خام مال خرید لیا جائے۔ اس دور افتادہ بستی کے مکینوں کی ضروریات ہی کیا تھیں۔ کھانا پینا ان کا بے حد سادہ، سارا سال وہ مکئی ، باجرے پر گذارہ کرتے۔ دودھ کے لئے ہر گھر میں دو چار بکریاں یا ایک گائے تھی۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جفا کش تھے۔ لوگوں کے لئے اعلی لباس تیار کرنے والے خود موٹے جھوٹے پیوند لگے لباس میں عمر گزار دیتے تھے اور سردیوں میں بھی اکثر ننگے پاوں ہی نظر آتے تھے، خاص طور پر عورتیں کہ ان کا تو کہیں آنا جانا ہی بہت کم تھا۔


گھروں کے سامنے والے رخ پر ندی اور گھروں کے درمیان، اونچے درختوں پر پہاڑی کووں کے لا تعداد گھونسلے تھے اور صبح کے وقت ان کا شور سن کر بستی کا ہر فرد بیدار ہونے پر مجبور تھا۔ ان کووں کی کائیں کائیں کے مختلف انداز بستی والوں کے لئے بڑے معنی لئے ہوتے۔ لڑکے بالے اور چھوٹی بچیاں سارا دن بکریوں کے ریوڑ چراتے، لڑکے البتہ کبھی کبھار شہر سے آئی ڈور سے گھر میں بنائی پتنگیں بھی اڑا لیتے۔ بکریاں چراتی بچی میں جونہی جوانی میں قدم رکھنے کی نشانیاں ابھرتیں اسے گھر کی کھڈی پر بٹھا دیا جاتا اور پھر باہر کی دنیا سے گویا ان کا رشتہ ختم ہو جاتا۔ ہاں چوری چھپے وہ گھر کے باہر کھیل لیتیں لیکن اسکا بھی ایک آدھ بار سے زیادہ امکان نہ ہوتا اور وہ جاتی بھی کہاں، ندی کی طرف جانے کی ممانعت تھی اور گھروں کی پچھلی طرف پہاڑوں کی ایک مسلسل دیوار تھی جسے دیکھ کر لڑکیوں کو قید کا سا احساس ہوتا تھا۔


دن تقریبا ختم ہونے والا تھا جب خوشبخت نے آج کا بنائی کا کام مکمل کیا اور کمر سیدھی کرنے کو ذرا لیٹی ہی تھی کہ بوڑھی دادی نے اسے آواز دی اور آج کے کام کا حساب لیا۔ وہ روزانہ اس سے معلوم کرتی کہ اسنے کتنے گولے دھاگے کے استعمال کئے ہیں اور ان سے کیا کیا تیار کیا ہے۔ دادی کا حساب بہت پکا تھا اور سب اسکے دماغ میں بہی کھاتے کی طرح درج ہوتا تھا۔ وہ جوانی میں ان گنت لباس بن چکی تھی اور بستی میں ایک بڑے فنکار کی حثیت     رکھتی تھی۔ اسے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں لگی تھی لیکن وہ اس لڑکی خوشبخت کا حساب کبھی نہیں سمجھ پائی۔ وہ اسے ہمیشہ اس بات پر ڈانتی کہ وہ دھاگہ ضایع کرتی ہے اور اسے دئے گئے دھاگے سے جتنی چیزیں تیار ہونی چاہئیں اتنی نہیں کر پاتی۔ دادی کی یہ تفتیش اور سرزنش اس وقت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جب سے لڑکی نے ایک بہت ہی نفیس مردانہ مفلر مکمل کر نے کے بعد گم کر دیا تھا۔


جس کمرے میں ہاتھ سے چلنے والی کھڈی تھی اسکی پچھلی دیوار کے پیچھے پہاڑ کا طویل سلسلہ تھا۔ اس دیوار کا ایک پتھر کھسکا کر لڑکی نے سوراخ نما کھڑکی بنا رکھی تھی۔ جب وہ بنائی کے کام سے اکتا جاتی تو اس پتھر کو سرکا کر باہرکا نظارہ کرتی۔ باہر سرے سے کوئی نظارہ ہی نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے چٹیل پہاڑ، سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے، بے آب و گیاہ، نہ چرند نہ پرند، نہ کوئی رستہ نہ کوئی بندہ بشر۔ پھر بھی کمرے کے ماحول سے یکسر باہر نکلنے کے لئے اس کھڑکی سے باہر جھانکنا گویا قید سے چند لمحوں کی آزادی کا احساس تھا۔ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے اس دن دور ایک جوان لڑکا نظر آیا۔ وہ بہت مشکل سے ان سنگلاخ پہاڑوں کے ابھرتے پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کی طرف آ رہا تھا۔ اسکا رخ بلا شبہ اسی کھڑکی کی جانب تھا۔ پہلے وہ خوف زدہ ہوئی، پھر حیرت زدہ۔۔۔ یہاں کسی انسان کی آمد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہاں سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں تھا، حتی کہ یہاں تو کبھی بکریاں چرانے والے بھی نہیں آ پائے تھے۔ وہ اسکا تصور تھا یا کوئی ہیولا۔آہستہ آہستہ وہ قریب آتا گیا تو اسکے خدو خال واضح ہونے لگے۔ لمبا قد، متناسب جسم لیکن جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ اسکی پاو پاو بھر موٹی آنکھیں تھیں۔ اور قریب آنے پر اسکے نیم گھنگریالے بال اور ہونٹوں پر بہت ہی ہلکی سنہری روئیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ وہ بڑی مشقت کے بعد سوراخ کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنی سانس ہموار کی۔ لڑکی اسے اتنا قریب دیکھ کر ششدر رہ گئی۔کون ہے یہ، لباس سے تو اسی علاقے کا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پہنچا کیسے۔ اجنبی تو اپنی سانس ہموار کر چکا تھا لیکن لڑکی کی سانسوں کا زیر و بم تو گویا پوری دیوار کو ہلائے دے رہا تھا۔ وہ اسے دیکھنے میں بری طرح مگن تھی۔اتفاق سے وہ خوبصورت مفلر اس وقت لڑکی کے گلے میں تھا۔ لڑکے نے ہاتھ بڑھایا تو لڑکی نے پیچھے ہٹنے کی بجائے مفلر سوراخ سے نیچے لٹکا دیا۔ لڑکے نے اتنا خوبصورت مفلر اپنے ہاتھوں سے چھوا تو اسے لڑکی کا لمس بھی محسوس ہوا۔ اس نے مفلر کو ذرا سا جھٹکا دیا تو مفلر لڑکی کے شانے سے نکل گیا اور دور نیچے کی طرف اڑتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔ اسکا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے فورا  دادی کی غصے بھری آنکھوں کا خیال آیا اور جونہی مفلر اسکی نظروں سے غائب ہوا تو اسنے غصے سے لڑکے کی جانب دیکھا۔ لیکن وہاں تو اب کوئی نہیں تھا۔ ایسے جیسے کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ شام گہری ہونے کو تھی۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پار دیکھتی رہی۔ بات اسکی سمجھ سے باہر تھی۔ لڑکے کو پہاڑ سے اوپر آنے میں کوئی پندرہ منٹ تو لگے ہوں گے لیکن غائب ہونے میں صرف پلک جھپکنے کا وقت۔ اس نے کھڈی کی پچھلی ٹیک پر پیر رکھا اور سوراخ کے تقریبا وسظ مین ہو کر دیکھا کہ وہ نوجوان کہیں گر تو نہیں گیا کہ اتنے میں دادی کے قدموں کی اواز آئی۔ اس نے فورا واپس کمرے میں چھلانگ لگا ئی اور سوراخ کو پتھر سرکا کر بند کر دیا۔ دادی جانتی تھی کہ لڑکی نے پتھر ہٹا کر کھڑکی سی بنا رکھی ہے۔ اس نے اس پر غصے کا اظہار بھی کیا تھا لیکن وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ اس سوراخ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔۔ رات جب دادی نے حساب کتاب کیا تو تیار ہونے والے کل تین مفلر تھے جبکہ چوتھے کا نہ  دھاگہ تھا اور نہ ہی مفلر۔ لڑکی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ نہ جانے کیوں اسنے اس واقعے کو پوشیدہ رکھنے کا سوچا اور بیان دیا کہ چوتھا مفلر ہاتھ میں لئے وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی تو ایک دم تیز ہوا کے جھونکے سے وہ اسکے ہاتھ سے نکل گیا اور کہیں پہاڑوں میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ دادی نے سخت ترین الفاظ میں ڈانٹ پلائی اور یہ بھی کہا کہ یہ کھڑکی کسی دن تمہیں برباد کر دے گی۔ تھکاوٹ کے باوجود وہ رات کو اپنے کمرے سے نکل کر کھڈی والے کمرے میں آتی رہی۔ اس نے ایک دو بار پتھر سرکا کر دیکھا بھی لیکن انتہا درجے کی تاریکی میں کیا نظر آتا۔ باقی ماندہ رات، شام کو پیش آنے والا واقع بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔ 


اگلے روز کھڈی والے کمرے کے باہر نظر آنے والے درختوں میں غالبا کسی جانب سے آئی کوئی پتنگ پھنسی تھی اور کووں کی جان پر بن آئی تھی۔ کچھ تو بے صبری سے اڑان بھرتے دور چلے جاتے اور پھر پلٹ کر آتے اور پتنگ پر حملہ آور ہوتے لیکن ہوا کے زور سے پتنگ کے پھڑپھڑانے کا شور ہوتا تو پھر اڑجاتے۔ کسی کی سمجھ  میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پر سکون زندگی میں یہ بلا کہاں سے چلی آئی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا تو نہ جانے کہاں کہاں سے بیسیوں کوے اور آجاتے اور سب مل کر اجتماعی شور و غوغا کرتے۔ شور سن کر دادی بھی آ گئی۔ اسنے جو کووں کی آوازیں سنی تو سب کو خبردار کیا کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اسکے تجربے کے مطابق جو آوازیں کووے نکال رہے تھے وہ محض پتنگ کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یا تو کسی مہمان کی آمد کی خبر تھی یا گھر کے کسی فرد کے سفر پر جانے کی۔ دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کووے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔ 


لڑکی کام کے کمرے میں آئی اور غیر ارادی طور پر اسنے کھڑکی کا پتھر سرکا کر باہر جھانکا۔ باہر دھوپ اور ویرانی تھی البتہ کووں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ اسنے کھڑکی بند کر دی اور کام پر بیٹھ گئی۔ آج اسکے کام کی رفتار بہت سست تھی۔ ہاتھ کھڈی پر بے دلی سے چل رہے تھے اور دھاگہ اسکے خیالوں کی طرح بار بار الجھ رہا تھا۔ مزید برآں اسنے کام کے دوران کوئی بیسیوں بار پتھر سرکا کر نظریں پھاڑ پھاڑ کر باہر دیکھا لیکن وہاں کچھ ہوتا تو نظر آتا۔ تنگ آ کر اسنے کام میں دھیان لگایا کہ مطلوبہ مقدار میں دھاگے سے کچھ بن پائے اور دادی کی نرم گرم سے بچ جائے۔ دادی اسے بہت اچھا کاریگر بلکہ فنکار سمجھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے دھاگے کی دشمن بھی قرار دیتی تھی۔ دادی کو کیا علم کہ روز کچھ نہ کچھ خام مال اس خفیہ چادر کی نظر ہو جاتا تھا جسے وہ بہت محنت اور پیار سے بنا رہی تھی۔ دادی کا خیال آتے ہی اسکے ہاتھوں میں روزانہ کی تیزی لوٹ آئی۔ اسنے شام سے پہلے ہی آج کا کام ختم کیا اور ایک بار پھر چاہا کہ کھڑکی سے پتھر سرکا کر دیکھے کہ اچانک کھڑکی کے باہر پتھر پر کسی جنبش کا احساس ہوا۔ اسکا رنگ فق ہو گیا اور سردی کے موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گئی۔ جلدی جلدی مکمل کیا کام دادی کو تھمانے کے بعد وہ واپس پتھر کے قریب آئی اور دھڑکتے دل سے اسے ایک طرف سرکایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ پہاڑ کے ایک نوکیلے پتھر کے سہارے۔ اسے اتنا قریب دیکھ کر ایک بار تو جیسے اسکے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو لیکن ہمت کر کے اسنے سہمی ہوئی سرگوشی میں پوچھ ہی لیا


" تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔کوں ہو اور کہاں تھے۔۔۔۔میرا مطلب کہاں سے اس مشکل اور سنگلاخ پہاڑ پر آئے ہو۔۔۔کیسے۔۔۔اتنی نشیبی دیوار۔۔۔۔"


لڑکے نے لڑکی کے تمام سوال غور سے سنے۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے اسکی مونچھوں کی سنہری رویں پھیل گئیں اور شفق میں زیادہ سنہری لگنے لگیں۔ اسنے صرف اتنا کہا " تم مجھے پانی پلا سکتی ہو، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔۔۔"


کچھ نہ سمجھتے ہوئے، ہونق چہرہ لئے وہ صراحی سے پا نی کا کٹورا بھر کے لائی تو وہ وہیں اسی انداز میں کھڑا تھا۔ اسنے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ پانی پینے کے لئے ہاتھ فارغ نہیں کر سکتا۔ لڑکی نے سوراخ میں سے تقریبا نصف جسم باہر نکالتے ہوئے کٹورا اسکے ہونٹون کے ساتھ لگا دیا اور اسنے گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پی لیا۔ 


" تم کون ہو، اس بستی کے مکین تو نہیں لگتے اور یہاں کیوں آئے ہو، مطلب کیسے آئے ہو ؟ " لڑکی نے اوسان بحال کر کے پوچھا


" ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، میں پہاڑ کی دوسری جانب سے ہوں لیکن میں یہاں آتا رہتا ہوں، میں ان گلہریوں کا شکار کرتا ہوں جو یہاں نیچے کثرت سے مل جاتی ہیں اور انکی کھال۔۔۔۔"


" مگر نیچے سے اوپر آنے کو تو کوئی راستہ نہیں، میں بخوبی جانتی ہوں، آج تک کوئی نہیں آیا، آخر تم۔۔۔" لڑکی نے بات کاٹی


" ہاں یہاں آنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا۔ بس ایک دن کھڑکی کھلی تھی اور میں نے تمہیں ایک خوبصورت چادر بنتے دیکھا ۔ مجھے تم اور چادر دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ میں تمہیں چادر سمیت اپنی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔۔۔"


لڑکی نے اس قسم کی بات کبھی زندگی میں نہیں سنی تھی۔ وہ جس ماحول کی پیداوار تھی وہاں تو اس قسم کا خیال بھی محال تھا۔ اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے لیکن یک بیک وہ لڑکا اسے بھر پور طریقے سے اچھا لگنے لگا۔ ابھی اس نے کوئی بات کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی کی آواز اسکے کان میں پڑی جو پوچھ رہی تھی کہ کام ختم کر نے کے بعد وہ ابھی تک کمرے میں کیوں تھی۔ دادی کا ڈر اسقدر تھا کہ مشینی انداز میں اسنے پتھر سرکا کر کھڑکی بند کر دی اور دوسرے کمرے میں بھاگ گئی۔ 


یہ رات اسکے لئے پہلی رات سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو وہ اسے محض اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن آج اس کو اسی مفلر سمیت دیکھا جو خود اسنے اسکے ہاتھ میں دیا تھا اور آج تو اسنے کٹورا بھر پانی بھی پیا تھا اور بات بھی کی تھی۔ رات کروٹیں بدلتے اور یہ سوچتے گزر گئی کہ وہ کوئی انسان تھا یا اسکا خیال کیونکہ کھڑکی کے اس پار تو آج تک بستی کا کوئی بندہ بشر کبھی نظر نہیں آیا تھا اور سب جانتے تھے کہ وہاں آنے جانے کا کوئی راستہ، کوئی پگڈندی، کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے دادی کی بات بھی یاد آئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی اسنے کووں کی عجیب کائیں کائیں سن کر کہا تھا کہ کوئی مہمان آنیوالا ہے۔ بمشکل دن طلوع ہوا تو اسے اس کمرے میں جانے ہی سے ڈر لگنے لگا۔ جہاں وہ پچھلے پانچ سال سے کھڈی چلا رہی تھی۔ وہ دبے پاوں کمرے میں گئی اور دھاگوں کے گولوں کو جو دن چڑھے ہی دادی کھڈی پر رکھ دیتی تھی ، گھورنے لگی۔ ہر گولے میں اسے اسی لڑکے کے خدوخال نظر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسے ماتھے میں درد محسوس ہوا اور بدن کی حرارت بھی تیز لگنے لگی۔ ایک بار تو اس نے سوچا کہ آج دادی سے چھٹی لے لے لیکن آج اسکا ارادہ اس خوبصورت چادر کو مکمل کرنے کا تھا جو اسنے صندوق کے اندر چھپا رکھی تھی۔ اس نے کوئی دس بار کھڑکی کے پتھر کی طرف چور نظروں سے دیکھا لیکن اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پتھر سرکا سکے۔ کل والا پانی کا خالی کٹورا بھی قریب ہی پڑا تھا۔ اس نے لپک کر اسے اٹھایا اور کسی پیاسے کی طرح ہونٹون سے لگا لیا۔ اس ایک عجیب خوشی اور سکوں کا احساس ہوا۔اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ نہ یہ خواب ہے نہ خیال، یہ ایک حقیقت ہے مگر وہ پھر گڑبڑا گئی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی ، اس نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ اس پہاڑ کی دیوار کے پیچھے کیا کوئی راستہ ہے، کوئی جگہ ہے آنے جانے کی تو اسنے گھور کر اسکی طرف دیکھا اور الٹا سوال کر دیا کہ آیا اسنے اپنی اٹھارہ سالہ کی عمر میں کووں کے علاوہ کسی اور پرندے تک کو بھی اس طرف دیکھا ہے۔ وہ خاموش ہو رہی۔ وہ کیسے بتاتی کہ لڑکا وہاں تھا، اسکے گلے میں مفلر تھا اور اسنے اسکے ہاتھوں پانی پیا تھا۔ اس نے چادر کی تعریف کی تھی اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔ آج کے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس اجنبی کے لئے پاگل ہو چکی ہے۔ کل کا واقعہ یاد کر کے اسکا دل زور زور سے دھڑک اٹھتا۔ یکدم کھڈی والا کمرہ اسے قید خانہ لگنے لگا اور کام کرنے کی بجائے وہ پتھر سرکا کر باہر کا نظارہ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔ 


آج پھر کووں نے بہت شور مچا رکھا تھا۔ معلوم نہیں اونچے درختوں پر بیٹھے نیچے پہاڑ کی جانب کیا نظر آرہا تھا کہ بار بار نیچے کو اڑان بھرتے اور پھر شور مچا کر اوپر درختوں پر بیٹھ کر واویلا کرتے۔ ان کے اس بے تحاشا اور غیر معمولی شور نے دادی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دیکھے کہ ان کو آج کیا تکلیف ہے۔ ماتھے پر ناگواری لئے دادی کھڈی والے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ اسنے کووں کی حرکات میں ایک عجیب سی بے چینی دیکھی۔ اسکے دل میں کسی انہونی کا کھٹکا ہوا۔ اسنے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔ گولے ویسے کے ویسے ہی دھرے تھے۔ پتھر سرکا ہوا تھا اور کمرہ خالی تھا۔ دادی نے سارے گھر میں پوتی کو آوازیں دیں، تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ گھر کے مرد ندی تک تلاش کر آئے لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ سہہ پہر ہونے کو آئی۔ بستی کے لوگوں نے رسوں، لاٹھیوں اور بھالوں کی مدد لی اور  دادی کے حکم پرگھر کے پچھواڑے والے عمودی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہی ایک جگہ تھی جہاں آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی ۔ تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ لوگ اس کھڑکی کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لڑکی ایک نہایت خوبصورت سلک کی چادر میں ملبوس پہاڑ کے ایک چوڑے پتھر پر لیٹی تھی اسکے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پانی کا کٹورا تھا، اسکے پاس وہی مفلر پڑا تھا جو سال بھر پہلے کھڑکی سے باہر اڑ گیا تھا۔ اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے وہ دم توڑ چکی تھی۔ 


The Chalky Thread

Rashid Javed Ahmed


Dressed in a white shirt and trousers, hiding behind her sunglasses with a bag full of kids’ homework in one hand, shoulder bag in the other, she got off the rickshaw.  Dragging herself up the four steps, she turned the key into a door lock and entered her flat.  She had just got one shoe off when her eyes caught a long chalky thread on the doormat.  She tried to get thread off the mat with the tip of her shoe, yet with every attempt it just twisted like a snake and stuck more to the mat.  She tried once more and the thread took shape of an elephant trunk, elongated and half hidden in fur of the mat.  She considered picking it up but instead picked up her shoes and placed them in shoe rack. She emptied contents of her bag on to the table and picked up her cell phone to charge.

Drenched in sweat, she felt as if miscellaneous papers from school, lesson details, planners, homework notebooks, all had stuck to her body.  The clock on wall showed twenty five minutes past four.  The dress she had taken off in the morning was there as it is.  She looked at the doormat again.  Partially hidden in the fur of doormat, thread looked like mountain peaks.  Ignoring it, she went into her bedroom, closed the curtains, took off her shirt as usual and stood under the fan that was running full speed.  Although the air was warm, yet her naked body felt relieved.  After some time she picked up the towel to take a bath but instead she hung it in the bathroom and came out.  She was not in mood to bathe yet. She went into the kitchen and was about to light the stove but decided against it too.  Opening the fridge, she took out the bottle with a beautiful cut that she had brought from a friend’s home, and gulped the cold water down her throat.  She had always been annoyed of the lizards that sneak into her home but that day that white thread was irritating her even more.  She looked at the doormat and it was still there looking like ECG waves.  

She looked outside the keyhole.  A slight breeze had started blowing.  She opened the door quietly.  Hiding behind the door, she put one foot outside the door and tried to beat the mat against the doorstep.  She struck it so fiercely, it made her cough.  The thread still clung to the mat like a leech. Incidentally, she put her other foot out of the door as well to beat the mat more vigorously.  She hit the mat strongly against the staircase railing beside the door; mat slipped out of her hand and at that same instant, with a loud thud, the door to her apartment closed.  She had put one foot against the door earlier to prevent it from closing. “Aargh! This landlord won’t get this lock fixed ever.”  A wave of rage passed her face.  She looked at herself intently.  There outside her flat, with legs wide apart, she was standing only in her trousers.  She tried to open the door but it did not budge.  She knew it won’t open without a carpenter now.  Awareness of her appearance chilled her spine.  She looked at the open window of flat above.  She felt it was there to swallow her with its wide open mouth.  A wave of fear rung through her and her heartbeat deafened her. 

Closed door – foot mat – open window – and half naked body; her eyes were pivoting from one to the other.  She tried to cover herself with her hands but hiding one part made the other more prominent.  Some time was spent in this dilemma and then she sat down in defeat by the wall under the main switchboard.  The doormat was right in front of her and the white thread looked like lips drawn into a smile.

Sitting half naked outside her flat sent shivers down her spine despite the heat and she felt immense pain.  Her head was heavy as if all the blood of her body had rushed to her temple and frozen there.  “What sin am I being punished like that for!” she thought.  On the opposite side of the building, the mosque at the end of the narrow street was relaying calls for Maghreb prayer.  She prayed with all heart that no one might see her in that condition.  She did not have enough courage to bear their gossip and that was why she had always taken pains to avoid other inhabitants of that building.  She even peeped through the keyhole before leaving home in the morning.  If there was no one in the street to greet, only then did she leave the door.  Once outside, she walked briskly to the rickshaw that arrived at the corner of the street at fifteen past seven sharp.  Loaded with her bag and lunch box, she used to get into the rickshaw and let out a breath of relief so high that the “voof” could be heard above the rickshaw noise.  In the afternoon, she usually arrived at a time when most people napped after lunch.  At that hour, kids played “noise, noise” in the street to spoil her afternoon.  She chose this name for their games because playing football or cricket in this narrow street was nothing but sheer noise.

Thank God that day kids had already left after playing.  Otherwise, if any of them had seen her in this condition, they would have made mountain out of a molehill.  Once entering her flat, she never left, even for a stroll.  Even though women and kids often came out at the night to walk in the street or gossip, but she could never venture outside her door due to fear of others.  This fear was instilled into her by her husband who made marital life hell for her.  Bearing daughters one after the other, she had lost ability to give birth, let alone bear a son.  Men always need an heir for themselves even if they have nothing to leave to them.  Her husband who had no value for a woman whether a mother, or a daughter or a wife, remarried for a son and treated her like dirt.  He made her feel insecure and anxious.  Fear of an impending doom lurked in her mind at all times.  Eventually, she got separated and reached home to her parents, fearful and dubious of herself.  She lived with them for some time but then with the marriage of her brothers, there was no room left for her in that house too.  To avoid any unpleasantness, she had rented that modest flat in that building.  The huge decision to live alone should have given her some courage but it seemed that this fear had become her second nature.  She had got job in a school by reference but had made her own place there with hard work and dedication.  From her colleagues and subordinates to gatekeeper, gardeners, peons, etc; everyone respected her.  Her friends found her helpful and affectionate at all times too.  But this fear was rooted into her soul like a pest.

The thought of someone seeing her in this condition was giving her creeps.  People will gossip about her and who knew better than her that no one could ever device a way to silence people.  Drenched in sweat, she was slumped by the wall.  With her arms round her chest, she noticed that her veins were swollen and looked black and dark.  It seemed to her that they were not her arms or probably she was looking at herself so closely after a long time.  Incidentally, she caressed her stomach and abdomen and she felt there was something like a soft pouch in her belly.  Her hair had come lose and had fallen on her forehead, irritating her, so she covered her chest with one hand to tighten her hair clip.  A thought crossed her mind and she opened the clip instead and threw it away.  She had not cut her hair for some time now and they were long enough to cover at least some of her body.  Darkness of the evening also helped. She summoned courage and got up to look at the mat.  The thread also looked like the veins on her arms.  

She heard footsteps nearby and they made her tremble through her soul.  She clenched the mat against her chest as if it was a very valuable dress.  Another wave of fear and worry rung through her but the footsteps had gone.  The spikes of mat were pricking her.  She threw it away disgruntled.  She was so fed up that now she wished that someone did come her way.  He might get shocked to see her condition, but she could explain and could ask for a shawl or a cloth to cover herself up.  She estimated that if there were three persons per flat in that building of seven flats, then approximately twenty one people lived there.  At least half of them must have been out of the house for college, university or for earning a living and must have left for their homes for at this hour even birds come back to their nests.  “At least some child may come this way.” She wished. “Where the hell did all those imbecile kids go who make noise all afternoon?  At least that janitor could come!  But he only comes twice to clean the building on the landlord’s bidding,” she recalled.  

She heard her phone ringing in her room.  That must be her eldest daughter.  She called daily around this hour to tell her about her day.  She was married and confided her problems in her, worrying the poor mother more as she could not help her solve her problems.  She could only listen to her and guide her but otherwise she was helpless.  Tired, she gathered herself against the wall again waiting for some help.  She considered thumping the wall between two flats hoping someone might hear, but she couldn’t do that either for she had never liked people in that flat.  Their activities were doubtful and she had a strange fear regarding them since the very beginning.  She heard footsteps again.  She pasted herself against the wall and picked up the mat to use as a cover but the sound stopped again.  The thread was in the form of letter ‘v’. 

She saw a face appear beyond the hazy glass door at the main entrance of the building.  Then she heard it open and ran to hide under the stairs.  The incomer went into some flat and only then she realized that she had missed the chance.  It was not the time to hide but to ask for help and she could have asked for any shawl or cover but unknowingly her fear and hesitation overpowered her and her mind ordered her legs to run instead of asking for help. 


It was quite dark outside now.  She was feeling safer by the wall and she had closed her eyes so tight, tears slipped out of them.  Strong wind was blowing which appeared to be turning into a dust storm to annihilate the heat of the day.  As expected, soon a gust of wind and dust hit her body and then the door of her flat, opening it in a jiffy.  Before the door could shut again, she lunged into her room and fell to the floor.  After a deep breath of satisfaction, she got up from the floor, closed the door and turned on the lights.  Crème colored bed sheet, matching pillows, chair with light blue cover, her revolving chair, beautiful vase, curtains swinging with wind, her dressing table; everything looked new to her as if it was her first time in that room.  She looked at the doormat which was stuck under the door, half in and half out.  She pulled it in.  The chalky thread wasn’t there anymore.  She bent on her knees and looked closely but the thread really was nowhere. 

Translated by
Sonia Ahmed

اتوار, ستمبر 13, 2015

آ د ھی کھڑ کی


آ د ھی کھڑ کی
راشد جاوید احمد

میری نظروں کے بالکل سامنے اس اونچی دیوار میں ایک کھڑکی ہے۔میں جب بھی فاییلوں سے سر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کمرے کے سامنے والی دیوار پر پڑتی ہے جہاں چاچا رحمت بیٹھا ہے۔رحمت کے پیچھے ایک دیوار ہے اور دیوار کے پار ایک وسیع لان جس کی انتہائی دیوار کی پرلی طرف وہ اونچی دیوار ہے جس میں ایک کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی کے ایک حصے پر پردہ پڑا ہے اور یوں میری نظروں کے سامنے آدھی کھڑکی ہے۔
اس وقت میری میز پر اتنا کام نہیں اور میں دفتر میں آنے جانے والوں کا جائزہ لے رہا ہوں لیکن جب بھی میں نظر اٹھا کر سامنے دیکھتا ہوں تو میری نظر لان میں اگے پھل دار درختوں اور پھولوں سے ہوتی ہوئی اس کھڑکی پر جا رکتی ہے۔کبھی کبھی اس بڑی سی کوٹھی کے بڑے سے لان میں ایک بوڑھا مالی پودوں کی دیکھ ریکھ کرتا نظر آتا ہے۔وہ ہمیشہ ملیشئے کی شلوار قمیص اور میلی سی صدری میں ملبوس ہوتا ہے۔اسکا گنجا بیضوی سر دھوپ کی شدت سے سرخ یاقوت کی مانند نظر آتا ہے۔مٹی ملے ہاتھوں سے وہ اپنے سر اور منہ سے پسینا صاف کرتا ہے، کوٹھی میں رہنے والا کوئی بندہ بشر نظر نہیں آتا، البتہ گھر کے گیراج میں کھڑی کالے رنگ کی بڑی سی گاڑی کی پچھلی بتیاں نظر آتی ہیں۔لان میں گہری خاموشی ہے اور مالی بھی خاموشی سے کام کر رہا ہے۔میں اس خاموشی سے اکتا کر اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے اپنے کام کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہیں۔میرے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ کبھی بے تحاشا کام ۔۔دین دنیا بھلا داینے والا اور کبھی مکمل فراغت اور اس فراغت میں جب مین دفتر کے میکانکی ماحول سے چھٹکارے کے لئے نظریں اوپر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کھڑکی پر جا پڑتی ہے۔میں نے اپنے ایک ساتھ کارکن کو اس کھڑکی کے بارے میں بتانا چاھا تو اسے میری دماغی حالت پر کافی تشویش ہوئی۔ایک اور نے تو مجھے اس کھڑکی کے سحر سے نکلنے کا مشورہ دیا۔تیسرے نے بس ہنس کر ٹال دیا۔۔کھڑکی کچھ اس مضبوطی سے بند ہے کہ اسے کھولنا مشکل ہے۔
میں اپنی میز سے اٹھ کر چاچے رحمت کے پاس آ کھڑا ہوتا ہوں۔اب مجھے لان میں اگے انار اور آم کے درخت صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اوپر تلے آنے والی موسمی آندھیوں کی وجہ سے کافی پھل ضایع ہو چکا ہے۔خشک پتے اور سوکھی لکڑیاں لان کے ایک کونے میں ڈھیر ہی۔دیوار کے پار اب کھڑکی زیادہ صاف نظر آ رہی ہے۔میری نظریں کھڑکی کی طرف ہیں اور چاچا رحمت مجھ پر طنزیہ جملے پھینک رہا ہے لیکن میں ایک اور ہی نظارے میں گم ہوں۔میرے سامنے کھڑکی کا آدھا پٹ کھلا ہے لیکن اندر بھت اندھیرا ہے۔چیزوں کا عکس صاف نظر نہیں آ رہا۔میں ذرا غور سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو کمرے کی ایک نکر سے دوسری تک ایک رسی بندھی نظر آتی ہے جس پر ایک مردانہ قمیص، بچوں اور عورتوں کے ایک دو کپڑے لٹکے ہیں۔ایک طرف پیڈسٹل فین کا کچھ حصہ اور پانی کا ایک ڈرم نظر آ رہا ہے۔کمرے کی تاریکی کے ساتھ ساتھ اندر کا حبس بھی محسوس ہو رہا ہے۔اچانک میں ایک بچے کی قلقاری کی آواز سنتا ہوں تو کھڑکی میں میری دلچسپی اور بڑھ جاتی ہے۔مہندی لگے دو سانولے ہاتھ نظر آتے ہیں جن کے ساتھ باوز میں پرانے فیشن کی موٹی چوڑیاں ہیں۔آہستہ آہستہ موٹے اور بھدے نین نقش والی ایک عورت کا مہاندرہ نظر آتا ہے۔بالکل کھڑکی کے سامنے۔۔ایک منٹ کے لئے اور پھر غائب۔۔۔
مجھے یاد آتا ہے کہ یہ چہرہ میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔میں اپنے ذہن پر زور دیتا ہوں۔ہاں بالکل وہی چہرہ۔۔وہی نین نقش۔۔اپنے گھر میں، اپنے محلے میں، دفتر میں،اپنے دوست کے گھر۔۔۔سڑک پر۔۔۔گلی میں۔۔میری نظریں اس آدھی کھلی کھڑکی کے اندر گڑی ہیں اور میرا دماغ اس چہرے کی پہچان میں مصروف ہے۔چاچا رحمت نے تھکان باتیں بنائے جا رہا ہے۔ میرا دھیان اپنی جانب کرنے کے لئے وہ میری قمیص کھینچتا ہے۔ میں رحمت کی طرف متوجہ ہونے ہی لگتا ہوں کہ چہرہ ایکبار پھر دکھائی دیتا ہے۔وہی ناک، وہی کان، وہی ماتھ، وہی ہونٹ، ہونتوں پر بے بسی اور افسردگی۔۔سخت چہرے پر پھیلا جبر۔۔بالکل وہی چہرہ ۔۔میں نے یہ چہرہ کئی بار دیکھا ہے۔باورچی خانے میں،بس سٹاپ پر،ریلوے ستیشن پر، دفتر میں ، شہر کے بڑے چوک میں۔۔۔وہاں اس قسم کے اور بھی کئی چہرے تھے۔سب کے ہونٹوں پر جبر، آنکھیں اندر کو دھنسی۔۔ان کی زبانوں پر ان کے دل کی پکار۔۔مہندی لگے ہاتھوں نے ایک دوسرے کو پکڑ رکھا تھا۔۔اپنے دوپٹے اپنی کمروں سے باندھے وہ ایک ہی سر تال میں دھمال ڈالے جا رہے تھے۔میں نے اس مہاندرے کو پہچان لیا ہے۔۔میں آنسو گیس کے شیل فائر ہونے کی آواز سن رہا ہوں۔چہرہ زور سے چیخا ہے۔میں چاچے رحمت سے پوچھتا ہوں کہ اس نے چیخ کی آواز سنی ہے ؟ وہ عجیب نظروں سے میری طرف دیکھتا ہے۔۔چاچا چیخ کی آواز اس کھڑکی میں سے آئی ہے۔۔میں اسے بتاتا ہوں۔۔اس آدھی کھڑکی سے۔۔جس پر پردہ پڑا ہے۔۔میں یہ پردہ گرا دینا چاہتا ہوں چاچا۔۔۔
کوئی عقل کے ناخن لو۔۔اچھے بھلے شریف آدمی ہو تم۔۔۔چاچا کہتا ہے۔
یہ پردہ ضرور گرے گا ایک دن۔۔۔میں سوچتا ہوں لیکن چاچا رحمت مجھے دھکیل کر میری میز کی طرف لے جاتا ہے جہاں آج کی تازہ ڈاک رکھی ہے اور مجھے اس کوآج ہی ڈسپوز آف کرنا ہے ::